22

انتشار پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ (اداریہ)

پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے گیریثنز کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ہائبرڈ جنگ’ انتہا پسند نظریات اور انتشار پھیلانے والے عناصر پر کڑی نظر ہے جدید جنگی ماحول میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی بے حد اہم ہے اس موقع پر انہیں فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے جاری کلیدی اقدامات پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز اور ایڈوائس سمیولیٹر ٹریننگ سہولت کا مشاہدہ کیا اور فارمیشن کے پیشہ وارانہ معیار اور مجموعی تیاری کو سراہا فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاک فوج کی اندرونی وبیرونی چیلنجز’ انتہاپسند نظریات اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں پر مکمل نظر ہے انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے ہائبرڈ مہمات انتہاپسند نظریات اور ایسے عناصر جو قومی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان سب کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا رہا ہے پاک فوج کی ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی کوششوں اور قربانیوں پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے ہمارے سکیورٹی فورسز کے جوان اور آفیسر استحکام پاکستان دفاع پاکستان اور ملک دشمنان کے خلاف سینہ سپر ہیں ملکی سرحدیںہوں یا اندرونی خلفشار سب پر نظر رکھتے ہیں، آرمی چیف’ چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو اہم گیریثنز کے دورہ کے موقع پر انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کڑی نظر رکھنے کا عزم قابل تعریف بلاشبہ افواج پاکستان نے ہمیشہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کامیابیاں سمیٹی ہیں اور انشاء اﷲ آئندہ بھی سمیٹتی رہے گی اے پی ایس سانحہ کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف پوری قوت استعمال کر کے ان کے نیٹ ورک کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ان کی کمین گاہوں کو بھی تباہ کیا تھا جس کے بعد ملک میں امن بحال ہوا خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردی کے واقعات میں کچھ عرصہ سے پھر اضافہ ہو گیا ہے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد ٹی ٹی پی’ بی ایل اے اور دیگر کالعدم دہشت گرد گروہ افغانستان سے آ کر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے سول اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا خاتمہ پاک فوج کر رہی ہے فتنہ الہندوستان اور خوراج کو جہنم واصل کیا جا رہا ہے پاکستان نے افغان طالبان کو دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست کی تھی اس حوالہ سے دوہہ میں مذاکرات کے بعد معاہدہ ہوا مگر افغان طالبان نے معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اور پاکستان کو دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے سخت ترین کارروائیاں کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا افغانستان میں طالبان عبوری حکومت بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے جس کا نقصان کو زیادہ نقصان ہو گا افغانستان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا ثالث بھی مقرر ہوئے مگر افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے باعث افغانستان نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہیں کیں جو افسوسناک ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عساکر پاکستان دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف مسلسل برسرپیکار ہیں اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور دہشتگردوں کا خاتمہ بھی کر رہے ہیں ان تمام تر سخت اقدامات کے باوجود KP اور بلوچستان میں دہشتگردی کی وارداتوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جن میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان دہشتگردوں کی وارداتوں کی کامیابی سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ سخت سکیورٹی اور کڑی نگرانی کے باوجود سکیورٹی سسٹم میں کہیں نہ کہیں سقم موجود ہے جس کا فائدہ اٹھا کر یہ عناصر اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کی کامیاب وارداتوں کے پیچھے دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ان کا نیٹ ورک انتہائی محفوظ اور مؤثر ہے جسے توڑنا ممکن نہیں یا انہیں ملک کے اندر سے اب بھی سہولت کاری مل رہی ہے ہر دو صورتوں میں ذمہ داری بالآخر سکیورٹی اداروں کی بنتی ہے کہ سکیورٹی سسٹم کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیسے کہا جا سکتا ہے اس کے علاوہ افغانستان سے ملحقہ سرحدوں کی بھی سخت نگرانی کرنیکی ضرورت ہے جہاں سے بھارت کے تربیت یافتہ دہشتگرد ملک میں داخل ہو کر تحزیبی کارروائیاں کر رہے ہیں، ان کو سبق سکھانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں