انجیر کے حیران کن فوائد

کراچی (بیوروچیف) انجیر ایک مفید خشک میوہ ہے جسے جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔ دبلے پتلے اور کمزور افراد کے لیے یہ پھل قدرت کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ انجیر کے اندر مثر غذائی اجزا جیسا کہ کیلشیم، پروٹین، فاسفورس، وٹامن اے، بی، سی، اور ڈی پائے جاتے ہیں۔ماہرینِ غذائیات کے مطابق 100 گرام انجیر میں 3.1 گرام پروٹین، 53 گرام شوگر، 239 کیلوریز، 12 گرام فائبر، 1.2 گرام فیٹ، اور 53 گرام کاربو ہائڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس پھل کو صحیح طریقے سے کھانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس خشک پھل کو استعمال کرنے سے آپ کی صحت پر مندرجہ ذیل مثبت اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ خشک میوہ پوٹاشیم اور کیلشیم کا بہت زبردست ذریعہ ہے۔ یہ دونوں منرلز ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ہڈیوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں جس سے کئی بیماریوں جیسا کہ ہڈیوں کی سختی اور کمزوری سے بچا جا سکتا ہے۔ کیلشیم ہڈیوں کا بنیادی اور اہم جز ہے جو کہ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں ہڈیوں کی ساخت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔کئی وجوہات کی بنیاد پر کچھ لوگوں کے معدوں میں زیادہ تیزابیت بننا شروع ہو جاتی ہے جس سے بد ہضمی جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تیزابیت کا نارمل لیول کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے لیکن اگر تیزابیت زیادہ بننا شروع ہو جائے تو معدے کے مختلف مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ خشک میوہ معدے کی تیزابیت کو الکلی میں تبدیل کرتا ہے جس سے تیزابیت میں واضح کمی ہوتی ہے۔ رات کو اس پھل کو پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور صبح اٹھ کر کھالیں۔ کچھ ہفتوں تک اس طرح انجیر کو استعمال کرنے سے فائدہ مند اثرات ظاہر ہوں گے۔یہ پھل قدرتی طور پر وٹامن بی کمپلیکس سے مالا مال ہوتا ہے جو کہ اعصابی اور جسمانی توانائی کے لیے بہت ضروری ہے۔ وٹامن بی کمپلیکس کی کمی ہیموگلوبن کی مناسب مقدار نہ بننے کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجے میں سر چکرانے لگتا ہے اور جسم جلد تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ خشک میوہ ہیمو گلوبن بنانے میں مدد کرتا ہے جس سے اعصابی و جسمانی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو چینی یا اس سے بنی میٹھی اشیا بہت پسند ہوتی ہیں۔ یہ اشیا ذائقہ میں تو لاجواب ہوتی ہیں لیکن صحت پر مضر اثرات چھوڑتی ہیں جیسا کہ وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ اس پھل میں کافی زیادہ مٹھاس ہوتی ہیجو کہ میٹھا کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مدد دے گی اور نقصان دہ کیلوریز بھی جسم کا حصہ نہیں بنیں گی۔یہ خشک میوہ میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے جس سے وزن میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اسے دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر ایک خطرناک بیماری ہے جو کہ دل کی بیماریوں اور دماغ کی نس پھٹنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی بنیادی وجہ سوڈیم اور پوٹاشیم میں عدم توازن ہوتا ہے۔ جیسا کہ غذا سے زیادہ مقدار میں سوڈیم اور کم مقدار میں پوٹاشیم حاصل کرنا۔ یہ پھل پوٹاشیم سے بھی مالا مال ہوتا ہے جو کہ اس عدم توازن کو ختم کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ بخار کی حالت میں زیادہ تر مریض کا منہ خشک ہو جاتا ہے۔ بخار کے دوران منہ کی خشکی سے بچنے کے لیے اس پھل کا گودا منہ میں رکھنے سے خشکی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ میوہ کھانسی، بلغم، اور دمہ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس پھل میں موجود اومیگا تھری، اومیگا تھری سکس فیٹی ایسڈز، اور فینول (کاربولک ایسڈ) خون کی شریانوں کو صحت مند رکھتے ہیں۔ جس سے دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہوجاتے ہیں اور ہارٹ اٹیکس کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ اس پھل میں موجود منرلز مرد و خواتین میں ان ہارمونز کے لیے ضروری ہیں جو بانجھ پن سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ستھ یہ میوہ جسم میں موجود فیرومون نامی کیمیکل کی افزائش میں بھی مدد فراہم کرتا ہے اور یہ کیمیکل فرٹیلیٹی کے لیے بہترین ہے۔ اس پھل میں غذائی فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ آنتوں کو متحرک کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے بواسیر اور قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔انجیر مختلف بیماریوں کے خلاف افادیت ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ وزن بڑھانے اور کم کرنے میں بھی مفید ہے۔ یہ اس کے استعمال پر منحصر کرتا ہے آپ اسے وزن بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا کم کرنے کے لیے۔ اس کے استعمال کے متعلق مزید معلومات کسی ماہرِ غذائیات سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ غذائیات کے کسی بھی ماہر سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں کیوں کہ ہیلتھ وائر نے ماہرین سے رابطہ کو بہت آسان بنا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں