45

انسانی سمگلنگ کا خاتمہ” خصوصی فورس کا قیام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے ٹاسک فورس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے ٹاسک فورس گزشتہ روز غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات کے واقعے پر بلائے گئے ہفتہ وار اجلاس کے دوران تشکیل دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث انسانی کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے وزیراعظم نے ہدایت دی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے افراد کی گرفتاریوں میں تیزی لائی جائے تمام ادارے بشمول وزارت خارجہ انسانی اسمگلروں کی نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں وزیراعظم نے کہا غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات کے دلخراش واقعے پر مجھ سمیت پوری قوم مضموم ہے وزیراعظم کو اجلاس میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات میں ملوث گروہوں پاکستان میں مختلف اداروں کی جانب سے گرفتاریوں’ ایف آئی آرز آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 6منظم گروہ کی نشاندہی’ 12ایف آئی آرز 25ملوث افراد کی نشاندہی’ 3اہم افراد کی گرفتاری’ 16لوگوں کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جا چکے ہیں اجلاس کو گاڑیوں’ بنک اکائونٹس اور اثاثہ جات ضبط کرنے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا اجلاس کو اس حوالے سے بیرون ملک جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا گیا وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کی نشاندہی کر کے انہیں عبرتناک سزا دلوانے کی ہدایت دی اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف’ اعظم نذیر تارڑ’ احد خان چیمہ’ عطاء اﷲ تارڑ’ معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ حکام نے شرکت” وزیراعظم محمد شہباز شریف کا انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کے لیے اپنی سربراہی میں خصوصی فورس قائم کرنے کا اقدام خوش آئند ہے اس اقدام سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد ملے گی انسانی سمگلنگ میں ملوث یہ گروہ نجانے کتنی دہائیوں سے سادہ لوح افراد کی جانوں سے کھیل رہے ہیں سہانے مستقبل نے خواب دکھا کر ان سے لاکھوں روپے بٹورنے کے بعد غیر قانونی طریقے سے مختلف بیرونی ملکوں میں لیجانے والے انسانی اسمگلرز کے ہاتھوں نجانے کتنے بے گناہ پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں انسانی سمگلنگ میں ملوث یہ گروہ انتہائی بے حس ہیں کشتی حادثات میں حالیہ خبروں کے مطابق درجنوں پاکستانیز کی اموات ہو چکی ہیں قبل ازیں نجانے کتنے پاکستانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی وجہ سے کشتی حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں مگر ان کی خبریں عام نہ ہونے کی وجہ سے خاموشی چھائی رہی اب جبکہ چند ماہ کے دوران تواتر سے کشتی حادثوں میں پاکستانیوں کی اموات اور سمندر میں لاپتہ ہونے والوں کے بارے میں عالمی میڈیا میں خبریں آنے کے بعد حکومت پاکستان نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وزیراعظم نے اس سلسلے میں خصوصی فورس قائم کی ہے جس کی سربراہی خود وزیراعظم شہباز شریف کریں گے کشتی حادثات کے حوالے سے ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کر دی ہے ٹیمیں متعلقہ ممالک میں بھی گئی ہیں اور حادثہ میں بچ جانے والوں سے تحقیقات کر رہی ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث اسمگلروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کو آخری شکل دے رہی ہے متعلقہ ممالک کے حکام سے بھی اس حوالے سے رابطے کئے جا رہے ہیں جس کا مقصد انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں اور ان کے کارندوں تک پہنچنا ہے ایف آئی اے رپورٹ میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ہے کہ 6منظم گروہوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے جبکہ 12مقدمات درج کئے جا چکے ہیں 25انسانی اسمگلروں کی نشاندہی ہو چکی ہے 3افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ انسانی اسمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران ایف آئی اے امیگریشن ڈیسکوں پر ڈیوٹی دینے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جار ہا ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس کام میں مزید تاخیر نہ کی جائے جتنی جلدی ممکن ہو سکے حکومتی ادارے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں’ افراد’ سہولت کاروں کو بے نقاب کرے اور انہیں قرار واقعی سزائیں سنائے تاکہ آئندہ کسی انسانی اسمگلر کو بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک لیجانے کی جرأت نہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں