123

انسداد دہشتگردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کرنیکا فیصلہ (اداریہ)

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں ترقی اور پائیدار امن پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دینگے کوئٹہ میں امن وامان کی صورت حال پر اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن وامان پر بریفنگ دی اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صورت حال واضح ہے ریاست کو رہنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے لہٰذا انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کریں گے بلوچستان میں امن چاہتے ہیں اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری’ قائمقام گورنر بلوچستان کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی’ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان’ آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا صوبہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے اور انسداد دہشت گردی کو جدید اسلحہ کی فراہمی کا اعلان خوش آئند ہے بلاشبہ اس وقت صوبہ بلوچستان میں امن وامان کا قیام انتہائی ضروری بن چکا ہے کیونکہ مستقبل میں بلوچستان ملک کی تعمیر وترقی اور ملکی خوشحالی کیلئے انتہائی اہم کردار کرنے والا ہے سی پیک کے تحت صوبہ بلوچستان میں شروع کئے جانے والے منصوبے تکمیل کی جانب گامزن ہیں گوادر کی بندرگاہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے کیلئے تیار ہے گوادر میں بین الاقوامی ائیرپورٹ فنکشنل ہو چکا ہے اور یہاں سے پروازوں کا سلسلہ بھی شروع ہے جو خوش آئند ہے وفاقی حکومت بلوچستان میں امن وامان کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے لیویز فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کر کے اسے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کا عندیہ دیا ہے آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں حکمت عملی ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ لیویز کو پولیس میں ضم کر رہے ہیں حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اعلیٰ عسکری اور سول قیادت کے مابین متعدد اجلاسوں کے بعد کیا گیا ہے جس کا مقصد سول فورسز کی استعداد بڑھا کر عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں ان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے سرکاری طور پر لیویز کے انضمام کیلئے اب تک کوئی کارروائی شروع نہیں ہوئی تاہم آئندہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کی جائے گی، اس سے قبل فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور میں بھی لیویز کو پولیس میں ضم کیا گیا تھا لیکن 2010ء میں نواب اسلم ریئسانی کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے اسے دوبارہ بحال کر دیا تھا بلوچستان میں لیویز فورس 2010ء میں منظور کئے گئے ایک قانون کے تحت کام کر کر رہی ہے جس کی منسوخی اور انضمام کے لیے صوبائی کابینہ سے منظوری اور اسمبلی سے قانون سازی کرنا ہو گی لیویز فورس 26ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کے پاس رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا تقریباً 82فیصد جبکہ پولیس کے پاس صرف 18فیصد علاقہ ہے ماضی میں پولیس کے پاس صرف 5فی صد علاقہ تھا وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے چند روز قبل اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بھی لیویز اور پولیس کے انضمام کا عندیہ دیا تھا” سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد امن وامان کے لیے وفاق اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کے اقدامات درست ہیں بلوچستان کے 82فیصد حصے کی حفاظت 26ہزار لیویز فورس کے اہلکاروں پر ہے جبکہ ان کے پاس ناکافی وسائل ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فورس کو بلوچستان پولیس کا حصہ بنا کر امن وامان کے حوالے سے جدید ٹریننگ اور جدید ہتھیار فراہم کئے جائیں تاکہ یہ تحزیب کاروں’ دہشت گردوں اور امن کے دشمنوں کے ساتھ نمٹ سکیں اس حوالے سے وفاقی حکومت کو صوبہ بلوچستان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے تاکہ صوبہ کو امن وامان کا گہوارہ بنایا جا سکے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے لیویز کو پولیس میں انضمام کرنے کا عندیہ دیا ہے ہمارے خیال میں اس فیصلہ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے بلوچستان میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ان کی جدید تربیت یقینی بنائی جائے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قیام امن یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں