انسداد پولیو مہم کی بڑی کامیابی

لاہور (بیورو چیف)پنجاب میں پولیو کے مکمل خاتمے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہونے لگیں، لاہور، راولپنڈی اور جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے مارچ میں لیے گئے تمام ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس اہم پیش رفت کا انکشاف سول سیکرٹریٹ لاہور میں منعقدہ صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، فوکل پرسن عظمیٰ کاردار اور چیف سیکرٹری پنجاب نے شرکت کی، جہاں وائرس کے پھیلاؤ کو مستقل بنیادوں پر روکنے کے لیے نئی حکمت عملی طے کی گئی۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت صوبے سے پولیو کے جڑ سے خاتمے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نمونوں کے منفی آنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ 13 اپریل سے شروع ہونے والی قومی مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے ساتھ ساتھ دیگر مہلک امراض سے بچاؤ کے لیے روٹین امیونائزیشن (حفاظتی ٹیکہ جات) کی کوریج کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کا مدافعتی نظام مضبوط بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو وائرس کے سدباب کے لیے محکمہ صحت اور ضلعی حکام مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کی خود نگرانی کریں تاکہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انچارج پولیو پروگرام عدیل تصور نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 13 اپریل (پیر) سے شروع ہونے والی مہم کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر کے 2 کروڑ 33 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 2 لاکھ سے زائد ورکرز فیلڈ میں فرائض انجام دیں گے۔بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ لاہور میں یہ مہم 7 روز جبکہ دیگر اضلاع میں 4 روز تک جاری رہے گی اور اس سلسلے میں تمام انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں