انوکھا گاؤں ،رہائش اور ورک ویزا فری مگر تدفین کی اجازت نہیں

سوالبارڈ( مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حیران کن قوانین اور منفرد طرزِ زندگی کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک غیر معمولی مقام سوالبارڈ (Svalbard) ہے، جو یورپ کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے عجیب و غریب اصولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔یہ وہ واحد بستی سمجھی جاتی ہے جہاں لوگ رہ اور کام تو کر سکتے ہیں، مگر نہ یہاں بچے پیدا کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی دفنانے کی۔سوالبارڈ آرکٹک اوشین کے وسط میں واقع ہے اور ناروے کے مرکزی علاقے سے تقریبا 930 کلومیٹر شمال میں جبکہ قطبِ شمالی سے صرف 650 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔یہ دنیا کی وہ بستی ہے، جہاں سال کے ایک حصے میں سورج مسلسل 24 گھنٹے چمکتا رہتا ہے، جبکہ باقی مہینوں میں اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ ان تاریک دنوں میں آسمان پر جھلملاتی ناردرن لائٹس اس علاقے کو کسی خواب ناک دنیا میں بدل دیتی ہیں۔سخت اور کٹھن ماحول کے باوجود یہاں تقریبا 2,500 سے 3,000 افراد آباد ہیں، مگر شدید موسمی حالات کے باعث یہاں نہ تو زچگی کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی تدفین ممکن ہے۔انتہائی سرد درجہ حرارت کی وجہ سے انسانی لاشیں قدرتی طور پر گل سڑ نہیں پاتیں۔ ماضی میں اس سے سنگین صحت کے مسائل پیدا ہوئے، اسی لیے اب یہاں تدفین کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی شخص شدید بیمار ہو جائے یا بوڑھا ہو جائے تو اسے جزیرے سے روانہ ہونا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں