انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2025ء متعارف

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2025ء متعارف کرا دیادستاویز کے مطابق ایف بی آر ٹیکس تنازعات کے متبادل حل کیلئے کمیٹی قائم کرے گا۔پانچ کروڑ روپے تک کے ٹیکس تنازعات کا معاملہ اے ڈی آر کے سپرد کیا جا سکے گا ۔ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج کمیٹی کا چیئرپرسن ہوگا ۔کمیٹی چیئرپرسن کیلئے ٹیکس معاملات سے نمٹنے کا تجربہ لازمی ہوگا ۔چیئرمین ایف بی آر کمیٹی چیئرپرسن کے لیے تین ناموں کا پینل تجویز کریں گے ۔بل کے مطابق کمیٹی میں ایف بی آر کا گریڈ 21 کا افسر شامل ہوگا ۔کمیٹی میں ایف پی سی سی آئی کا نمائندہ شامل ہوگا ۔مالیاتی اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے تنازعات کا متبادل حل نظام متعارف کر دیا ۔ شہریوں کو مالیاتی اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے اب عدالتوں کے بجائے متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی شہری یا ادارہ بینکوں، مالیاتی کمپنیوں یا سرکاری ملکیتی اداروں کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے۔ شکایت کنندہ کو اپنی درخواست کے ساتھ مکمل شواہد اور دستاویزات فراہم کرنا ہوں گے اے ڈی آر معاملے کی نوعیت کا درست اندازہ لگا سکے۔ بل کے مطابق شکایات کی اقسام میں معاہدے کی خلاف ورزی، ناقص خدمات، مالی نقصان، بدانتظامی یا کسی بھی قسم کی زیادتی شامل ہیں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد اے ڈی آر دونوں فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ صادر کرے گا۔ اگر اے ڈی آر کو محسوس ہو کہ شکایت میں وزن ہے تو وہ فریقین کو ثالثی یا مصالحت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی تجویز دے سکتا ہے۔ ثالثی کا عمل مکمل غیرجانب دارانہ ماحول میں انجام دیا جائے گا، دونوں فریقوں کو مساوی موقع فراہم کیا جائے گا۔ اے ڈی آر کا فیصلہ تحریری صورت میں جاری ہوگا مصالحتی عمل رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگا، جس میں اے ڈی آر کا کردار سہولت کار کا ہوگا۔ دستاویز کے مطابق فریقین کے مابین ہونے والے کسی بھی معاہدے کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اے ڈی آر کے فیصلے پر عمل درآمد لازم قرار دیا گیا ہے، عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ اتھارٹی کو کارروائی کے لیے آگاہ کیا جائے گا۔ اگر کسی فیصلے میں قانونی سقم پایا جائے تو فریقین عدالت میں نظرِ ثانی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اے ڈی آر کا مقصد ٹیکس تنازعات کا کم لاگت میں موثر حل ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں