…اور والدین تنہا رہ گئے

عید آتی ہے تو گھروں میں روشنی ہونی چاہیے،دروازوں پر دستکیں، صحن میں ہنسی، اور آنکھوں میں چمک۔مگر کچھ گھروں میں عید صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ بن کر رہ جاتی ہے۔وہاں بوڑھے ماں باپ بیٹھے ہوتے ہیںخاموش، منتظر، دروازے کی طرف اٹھتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ۔کبھی فون کی گھنٹی پر چونک جاتے ہیں،اور جب خاموشی لوٹ آتی ہے تو دل کے اندر کچھ اور ٹوٹ جاتا ہے۔یہ وہی گھر ہیں جہاں کبھی ایک بچے کی ہنسی سے زندگی مہکتی تھی۔ جہاں چھوٹے چھو ٹے قدمو ں کی چاپ میں خوشیا ں بسی ہوتی تھیں۔ مگر آج وہی قدم دور جا چکے ہیںکوئی بیرونِ ملک جا بسا ہے،کوئی دیہات سے شہر کی طرف نکل گیا ہے۔کامیابی کی راہوں نے فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔گھر ویسے ہی کھڑے ہیںمگر ان میں بسنے والے چہرے بدل گئے ہیں۔اب وہاں صرف بوڑھے ماں باپ ہیںاور ان کے ساتھ ایک طویل خاموشی۔ اولاد خرچہ بھیج دیتی ہے،ضروریات پوری کر دیتی ہے،مگر وہ چیز نہیں بھیج پاتی جو سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے محبت بھرے الفاظ اور ساتھ۔ ہم نے اپنے بچوں کو کامیاب بنایا، انہیں بہترین تعلیم دی، بہترین مواقع دیے، مگر شاید ایک چیز دینا بھول گئے اپنا قرب۔ بچپن ایک نازک موسم ہوتا ہے۔ وہاں سختی کا ہر جھونکا ایک نقش چھوڑ جاتا ہے۔ جب ایک بچہ صبح آنکھ کھولے اور ڈانٹ سنے، سکول جانے پر ڈانٹ،واپس آنے پر ڈانٹ،کھانے، کھیلنے، سونے ہر لمحے اگر اس کے حصے میں سختی ہی آئے، اور یہ سلسلہ برسوں جاری رہے،تو وہ بچہ صرف بڑا نہیں ہوتاوہ اندر سے خاموش ہو جاتا ہے۔وہ سیکھ لیتا ہے کہ زندگی میں آگے کیسے بڑھنا ہے، مگر یہ نہیں سیکھ پاتا کہ کسی کے قریب کیسے رہنا ہے۔محبت ایک خاموش زبان ہے، جو لفظوں سے زیادہ رویوں میں بولتی ہے۔ اگر ایک جانور کے ساتھ بھی نرمی کی جائے تو وہ مانوس ہو جاتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ سختی کی جائے تو وہ اجنبی اور وحشی ہو جاتا ہے۔تو انسان کا دلاور وہ بھی اپنی اولاد کا دل کتنا حساس ہو گا؟ ہم نے بچوں کو یہ سکھایا کہ کامیابی ضروری ہے،مگر یہ نہیں سکھایا کہ رشتہ بھی ضروری ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ والدین کو دعائیں تو دیتے ہیں، مگر ان کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں رکھتے۔ وہ خرچہ بھیج دیتے ہیں، مگر دل کا حال نہیں بھیجتے۔ رسول اکرمۖ کی زندگی ہمیں ایک اور راستہ دکھاتی ہے نرمی کا، محبت کا، قربت کا۔ اگر وہاں سختی ہوتی، تو لوگ بکھر جاتے۔ یہی اصول گھر میں بھی ہے۔ دل حکم سے نہیں جیتے جاتے، دل صرف محبت سے جیتے جاتے ہیں۔ آج عید کے دن جب ماں باپ تنہا بیٹھے ہوتے ہیں، تو ایک سوال فضا میں گونجتا ہے: کیا ہم نے واقعی اپنے بچوں کو کامیاب بنایا؟ یا ہم نے کامیابی کے نام پراپنے ہی ہاتھوں سے ایک فاصلہ پیدا کر دیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں