31

اووربلنگ کے ذریعے صارفین کیساتھ 244ارب کا فراڈ

اسلام آباد(بیورو چیف)بجلی کی 8 تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اوور بلنگ کے ذریعے صارفین سے 244 ارب روپے بٹورنے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ حکام نے مالی بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں، اپنی نااہلی چھپانے کیلئے صارفین کی جیبوں سے اضافی پیسے نکلوانے والے کسی افسر کو سزا بھی نہ ملی، کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صارفین کو رقوم واپس کردی گئیں تاہم آڈٹ حکام کو ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کی 8 تقسیم کار کمپنیاں 244 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث ہیں، آڈٹ حکام نے پاور ڈویژن کے ماتحت اداروں میں مالی بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں، اسلام آباد، لاہور، حیدرآباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ، سکھر اور قبائلی علاقوں میں اووربلنگ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق زرعی ٹیوب ویلز اور وفات پا جانے والے افراد بھی اووربلنگ سے نہ بچ سکے، ملتان الیکٹرک کمپنی نے مردہ افراد کو 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کے بل بھیج دیئے، بجلی یونٹ صفر تھے لیکن بل میں 12 لاکھ 21 ہزار 790 یونٹ ڈال دیئے گئے۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیوں نے لائن لاسز، بجلی چوری اور ناقص کارکردگی چھپانے کیلئے اووربلنگ کی، صرف 5 تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین کو 47.81 ارب کی اووربلنگ کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں