اپنے محافظوں کی قدر کیجئے

اﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا بار شکر ہے کہ اس نے ہمارے پیارے ملک پاکستان کو طاقتور افواج عطاء کیں’ مملکت خداداد پاکستان کی جغرافیائی ونظریاتی سرحدوں کے تحفظ کیلئے مسلح افواج کی عظیم قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور یہ افواج پاکستان کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ ہم ایک باوقار قوم کی حیثیت سے آزاد فضائو ں میں سانس لے رہے ہیں، ہمارے کسی بھی دشمن نے جب ہمیں ڈرانے’ دھمکانے کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانا پڑی، ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمیشہ ہمارے کیخلاف سازشیں کیں مگر اسے ناکامی ونامرادی کے سوا کچھ نہ مل سکا، حالیہ آپریشن بنیان المرصوص کے دوران بھی افواج پاکستان نے جرأت وبہادری کی لازوال داستان رقم کی ہے اور پوری دنیا پاکستان کی شاندار فتح کی گواہی دے رہی ہے، افواج پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا اور اسے کاری ضرب کے ذریعے وہ زخم لگائے گئے جنہیں وہ اب تک چاٹ رہا ہے، یہ کامیابیاں افواج پاکستان کے طاقتور اور مضبوط ہونے کا حاصل ہے، ہمیں چاہیے کہ ہر موقع پر اپنے محافظوں کی قدر کریں اور ہر قدم پر ان کے شانہ بشانہ نظر آئیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن ممالک میں افواج کمزور ہیں، انہیں اپنی آزادی برقرار رکھنا سخت مشکل ہے، امریکی حملے کا نشانہ بننے والا ملک وینزویلا کی ایک تازہ اور زندہ مثال ہے۔وینز ویلا رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 32 واں بڑا ملک ہے جس کا کل رقبہ 916,445 مربع کلومیٹر بنتا ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑ کر طیارے میں نیویارک پہنچادیا گیا، انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔وینزویلا رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 32 واں بڑا ملک ہے، جس کا کل رقبہ 916,445 مربع کلومیٹر بنتا ہے جبکہ حجم کے لحاظ سے یہ پاکستان اور نائجیریا کے برابر اور امریکا کی ریاست ٹیکساس سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔یہ وسعت وینزویلا کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ دفاعی اور اقتصادی لحاظ سے بھی ایک اہم ملک بناتی ہے، وینزویلا کا جغرافیہ کئی نمایاں خطوں میں تقسیم ہے۔اس کے مغرب میں اینڈیز پہاڑ ہیں، یہاں ملک کی بلند ترین چوٹیاں واقع ہیں، بلند پہاڑی علاقے نسبتاً ٹھنڈے موسم کے حامل ہیں۔ ملک میں زرعی سرگرمیاں اور انسانی آبادیاں زیادہ ہیں، وینزویلا کے شمال و مشرق میں ساحلی پہاڑی سلسلہ ہے، یہ کیر یبین سمندر کے ساتھ واقع ہے، آبادی اور بڑے شہر اسی پٹی میں ہیں اور یہ زلزلہ خیز علاقہ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ وینزویلا میں میدانی علاقے بھی موجود ہیں جبکہ اہم دریا، خصوصاً اورینوکو اسی خطے سے گزرتا ہے، اورینوکو دریا ملک کا سب سے بڑا دریا ہے، اس کی شاخیں زراعت، بجلی اور نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کئی پن بجلی منصوبے انہی دریاؤں پر قائم ہیں۔ملک کے جنوب میں ایمازون جنگلات بھی ہیں، گھنےاستوائی جنگلات کے ساتھ اس میں حیاتیاتی تنوع کا خزانہ بھی ہے، ملک کا جنوبی علاقہ معدنی وسائل سے مالا مال مگر کم آبادی والا علاقہ ہے۔ یہاں پر دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر، قدرتی گیس، سونا، لوہا، باکسائٹ ، پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت بھی موجود ہے، یہی وسائل وینزویلا کو عالمی سیاست میں ایک اسٹریٹجک ملک بناتے ہیں۔ وینزویلا کی آبادی تقریباً 3 کروڑ اور 23 ریاستیں ہیں، ملک کا دارالحکومت کاراکس ہے جبکہ وفاقی علاقے بھی الگ ہیں۔ وینزویلا کا حجم، جغرافیائی تنوع اور قدرتی دولت اسے خطے کا ایک طاقتور ملک بنا سکتے تھے، تاہم دفاعی صلاحیت میں کمی’ سیاسی عدم استحکام، پابندیوں اور بدانتظامی کے باعث حالات یہاں تک پہنچے، اس صورتحال پر تمام پاکستانیوں کو غور کرنا چاہیے اور ہر فرد کو چاہیے کہ وہ وطن عزیز کی حفاظت’ آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کرنیوالے اپنے محسنوں کی قدر کریں، اس بات سے بھی ہر خاص وعام آگاہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نگہبان ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہو گی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا ومالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو (سمجھ لو) تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔بے شک! ہر کسی سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی’ یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر جگہ پر موجود نگرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کی احسن طریقہ سے ادائیگی کیلئے بھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ایک گھر کا سربراہ اپنے گھرانے کی تعلیم وتربیت اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کیلئے سخت محنت سے کام لیتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کسی کی بھی محنت کو ضائع نہیں کرتا، یہ محنت رنگ لاتی ہے اور پھر گھرانہ ایک مثالی گھرانہ بن جاتا ہے، یہ تو ایک گھر کی بات ہے’ کئی لوگ اپنے علاقوں اور کئی لوگ پورے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں لہٰذا آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے کس قدر جانفشانی سے کام کرنا پڑتا ہو گا، اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے محسنوں کی قدر کریں اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے محسنوں کی قدر کی ہے، افواج پاکستان پورے ملک کی محافظ اور پوری قوم کی محسن ہے، ان کے احسانات کو یاد رکھنا، ان کی شفقت ومحبت کا صلہ دینا، ان کی مدد کو سراہنا نہ صرف اپنا اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکرگزاری کا اظہار بھی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنے محافظوں کی قدر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں