60

اپوزیشن کے احتجاج کی کال سے یومیہ 190 ارب کا نقصان (اداریہ)

وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کی کال سے روزانہ 190ارب کا نقصان ہوتا ہے احتجاج کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں کمی ہوتی ہے کاروبار میں رکاوٹ سے برآمدات متاثر ہوتی ہے احتجاج کے باعث امن وامان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی پر اضافی اخراجات آتے ہیں آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے کے نقصانات اس کے علاوہ ہیں’ آئی ٹی اور ٹیلی کام کی بندش سے سماجی طور پر منفی اثر پڑتا ہے احتجاج کے باعث صوبوں کو زرعی شعبے کے حوالے سے روزانہ نقصان 26ارب روپے کا ہوتا ہے صوبوں کو صنعتی شعبے میں ہونے والا نقصان 20ارب سے زیادہ ہے،، وزیر خزانہ کی جانب سے اپوزیشن کے احتجاج سے یومیہ 190ارب کے نقصان کا بیان اپوزیشن راہنمائوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے جو ملک کا نقصان کرنے کے درپے ہیں اور ہر روز کال پہ کال دے کر ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس وقت بہت زیادہ جوش میں ہے اور اس جوش میں وہ اپنے ہوش میں ہی نہیں یہ سیاسی جماعت ایسی جماعت بن گئی ہے جو ہر وقت احتجاج کے موڈ میں رہتی ہے کبھی تو یہ لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو وزیراعلیٰ KP علی امین گنڈاپور صوبائی حکومت کے خلاف ہی دھرنے پر نہ بیٹھ جائیں پی ٹی آئی کچھ اور کرے یا نہ کرے لیکن احتجاج ضرور کرتی ہے چونکہ اس جماعت کا بانی جیل میں ہے اور جو قیادت باہر بیٹھی ہے ان کے پاس احتجاج کا عذر موجود ہے اصولی طور پر تو اس جماعت کو اپنے بانی کی رہائی کے لیے عدالتی راستہ اختیار کرنا چاہیے آئین وقانون ہی اس مسئلے کا بہترین حل ہے احتجاج کرنے سے ملکی خزانے کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا ذمہ کون ہے؟ KP حکومت احتجاج کے لیے سرکاری وسائل بھی استعمال کرتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر تماشا لگا رکھا ہے اور پاکستان کو عالمی طور پر بدنام کیا جا رہا ہے کہ یہاں پر اپوزیشن کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا وفاقی دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے لیے وفود آ رہے ہیں مگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اسلام آباد پر دھاوا بولنے پر تیار ہے KP اور دیگر علاقوں سے کارکنان احتجاجی کال پر اسلام آباد آ رہے ہیں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت احتجاج روکنے کیلئے سکیورٹی پر بھاری اخراجات کر رہی ہے جتھوں پر قابو پانے کے اقدامات کئے گئے ہیں علاوہ ازیں پاکستان چیمپئنز ٹرافی کی میزانی کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے ایسے میں عالمی ممالک میں ہمارے ملک کے بارے میں دنیا کے کیا خیالات ہوں گے یہ بھی اپوزیشن نہیں سوچ رہی اسے تو صرف احتجاج سے غرض ہے! اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی احتجاج نہیں ہونا چاہیے حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم پر سکیورٹی اقدامات کر رکھے ہیں تاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو سکے شہریوں کے کاروبار زندگی میں کوئی رخنہ نہ پڑے پبلک آرڈر 2024ء دھرنے’ احتجاج ریلی وغیرہ کی اجازت کیلئے مروجہ قانون ہے ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنائے لہٰذا اس حوالے سے انتظامیہ نے واضح کہا ہے کہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہو گی اس وقت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت ذہنی طور پر مفلوج نظر آ رہی ہے عدالتی احکامات کے باوجود کارکنان اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کیلئے آ رہے ہیں، ٹھیک ہے کہ پی ٹی آئی کو اس وقت مختلف مسائل کا سامنا ہے مگر اس کا حل تدابیر سے نکالے احتجاج سے نہیں! پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جتنے بھی راہنما ہیں ان سب کی بولیاں الگ الگ ہیں اس سے احساس ہوتا ہے کہ ان کی کوئی پارٹی پالیسی نہیں جس کو پنجاب’ بلوچستان’ سندھ’ کے پی سے ایک ہی انداز سے بیان کیا جائے پی ٹی آئی کے بانی کی اہلیہ کے ویڈیو بیان سے معاملات اور بگڑتے جا رہے ہیں عمران کی بہنیں کوئی اور سوچ رکھتی ہیں اور دونوں میں رابطے کا فقدان ہے جب بھی پاکستان میں مختلف ممالک کے صدور یا وفود سرمایہ کاری کیلئے آتے ہیں پی ٹی آئی کوئی نہ کوئی ایشو لیکر احتجاج کی کال دے رہی ہے جس کیوجہ سے ملک کو یومیہ اربوں روپے کا نقصان سہنا پڑتا ہے ہماری پی ٹی آئی راہنمائوں سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے بانی کی رہائی کیلئے عدالتوں سے رجوع کریں اور اسلام آباد پر چڑھائی اور ملک میں احتجاجی کالز اور ریلیوں کا سلسلہ اب بند کر دیں کیونکہ یہ سب ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں