ایران،امریکہ جنگ رکوانے کیلئے چین میدان میں آگیا

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کر دیا۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا یہ جنگہونی ہی نہیں چاہیے تھی، طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں، ایران میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کو مقبولیت نہیں ملی۔چین نے ایران اور خلیجی ملکوں کی سلامتی اور خود مختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے اور بڑے ممالک تعمیری کردار ادا کریں۔اس کے ساتھ ہی چین نے ایران پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے حملوں کو فوری روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل روس نے بھی ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔دریں اثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطی میں جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شدت آ گئی ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، ایران نے 220 امریکی فوجی مارنے اور کئی قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے جسے امریکی سنٹرل کمانڈ نے رد کر دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچر اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے اس امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی پر بم برسائے گئے، اسرائیل نے ایران کے 80 لڑاکا طیارے بھی تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس، ایک ہزار 41 کمرشل یونٹس، 14 میڈیکل سینٹرز، 65 سکولوں اور ہلال احمر کے 13 مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنایا گیا ہے، امریکی حکام دعوی کرتے ہیں کہ امریکی فوجی کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں، امریکی حکام حقیقت کو چھپانے کی بیکار کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا ایرانی بیان مسترد کر دیا اور کہا کہ ایرانی رجیم کا امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا بیان جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔امریکا اور اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی افزودہ یورینیم کے حصول کے لیے سپیشل فورسز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، آپریشن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریبا 450 کلوگرام یا 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، منصوبے کے تحت امریکی یا اسرائیلی کمانڈوز کو ایران میں زیر زمین محفوظ تنصیبات تک بھیجا جائے گا۔امریکا ایرانی یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرے گا یا غیر مثر بنا دے گا، آپریشن میں انٹرنیشنل جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے سے اسرائیل بھر میں سائرن گونج اٹھے، اسرائیلی فوج کے مطابق دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہاہے۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ شہریوں کو شیلٹرز اور دیگر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا، حکومتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ایران کی جانب سے بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف حملوں کی نئی لہر میں تباہ کن کارروائیاں کی گئی ہیں، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یو ایس ففتھ فلیٹ کے 21 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا، الظفرہ ایئربیس پر 200 امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی خلیج فارس میں امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، ایران نے تل ابیب میں سٹریٹجک اہداف پر بھی میزائل حملہ کیا جس سے عمارتیں لرز گئیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان میں ایک اسرائیلی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں