ایران،امریکہ جنگ سنگین صورتحال اختیارکرگئی

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کی تصدیق کر دی، انہیں دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کیا گیا، ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہو گئے، اسرائیلی میڈیا نے ایران کے 40سے زیادہ حکام قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایران نے 27امریکی اسرائیلی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔ 1989سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی و اسرائیلی حملے میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے دفتر میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے، ایرانی حکومت نے ان کی شہادت پر سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، ایران نے خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔خیال رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے آخری خطاب میں آخری دعا مانگی تھی کہ یااللہ مجھے شہادت نصیب فرما، یاللہ مجھے شہدا کے ساتھ رکھنا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے محل پر اسرائیل اور امریکا نے 30 بم گرائے، امریکا اور اسرائیل نے حملے کے لیے انتظار کیا تاکہ اعلی مشیران کو بھی ایک ہی جگہ نشانہ بنایا جا سکے، امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس نے تین اہم اجلاسوں کے بعد دن کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے اعلان کیا ہے کہ آج ہی عارضی قیادت کونسل قائم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو لوٹنے اور منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، علیحدگی پسند گروپوں نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے ردِ عمل میں حملوں کی چھٹی لہر شروع کر دی ہے۔بیان کے مطابق آئی جی آر سی نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور 27امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کے تل نووف ایئر بیس، تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہا کیریا اور ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں میں خطرے کی گھنٹی کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیں گی۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دے دی، ٹرمپ نے کہا کہ ایران اگر جوابی حملہ کرے گا تو ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو امریکی فورس غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کرے گی، ایران کے لیے بہتر ہو گا اگر حملہ نہ کرے۔ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر امریکی اسرائیلی حملے میں شہادتوں کی تعداد 148 ہو گئی، امریکی اسرائیلی اسکول حملے میں 95افراد شدید زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اسرائیلی سکول حملے میں 85طالبات شہید ہوئیں۔دوحہ اور منامہ میں نئے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں، وسطی اسرائیل میں بھی سائرن بج رہے ہیں۔ایرانی حکومت کے قریبی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ عراقی مزاحمت نے عراقی کردستان میں امریکی اڈوں پر اپنے حملے شروع کر دیے ہیں، کردستان کے دارالحکومت اربیل کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک نیوز ایجنسی نے ایک ویڈیو بھی شائع کی ہے جس میں عراقی شہر اربیل میں دھوئیں کا بادل بلند ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے۔بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی پاسداران انقلاب کے نئیکمانڈر ان چیف مقرر کردیے گئے۔اسرائیلی نے ایران پر حملے میں پاسداران انقلاب کے چیف کو مارنیکا دعوی کیا تھا تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص علی شمخانی شہید ہو گئے ہیں، ایرانی میڈیا نے معاون محمد شیرازی کی شہادت کی بھی تصدیق کر دی، کمانڈر پاسداران انقلاب پاکپور بھی نہیں رہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جنگ کے دوسرے روز بھی دھماکے سنے گئے ہیں، عراق کے اربیل ہوائی اڈے کے قریب بھی دھماکے ہوئے ہیں، دبئی میں ایک بار پھر دھماکے سنے گئے ہیں، ایک روز پہلے بھی دبئی میں مختلف مقامات نشانہ بنے تھے، دبئی حکومت کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایرانی حملے کے بعد چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراقی دارالحکومت بغداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، بغداد کے گرین زون میں مشتعل افراد اور پولیس کی جھڑپیں ہوئیں، گرین زون میں سرکاری عمارات، امریکی سفارتخانہ موجود ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا مغربی اور وسطی ایران میں 30 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں۔لڑاکا طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں بیلسٹک میزائل نظام اورفضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، اسرائیل کے مطابق کچھ دیر پہلے حملوں کی ایک اور لہر مکمل کی ہے۔ایرانی صدر نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایک عظیم جرم ہے، ذمہ داران کو بھرپور جواب دیا جائے گا، سپریم لیڈر کے قتل کو اسلامی دنیا کی تاریخ کا اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو گا، خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ذمہ دار عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور صہیونی قوتوں کو اس اقدام کی قیمت چکانا ہوگی، قومی اتحاد اور عوامی حمایت سے مضبوط ردعمل دیا جائے گا، مجرموں اور منصوبہ سازوں کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا، اسلامی دنیا اس واقعہ کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایرانی رہنما کا نام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اچھے امیدوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کیلئے بڑا موقع ہے، وہ ملک کو واپس حاصل کریں، خامنہ ای کی موت ایرانی عوام اور دنیا کیلئے انصاف ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب سمیت دیگر ایرانی فورسز لڑائی نہیں چاہتیں، اب وہ استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں، بعد میں صرف موت ملے گی، اہداف کے حصول تک ایران پر بمباری جاری رہے گی۔ایرانی فوج نے سپریم لیڈر سید آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارح کو سزا دی جائے گی، آیت اللہ خامنہ ای کے قاتلوں سے سخت اور فیصلہ کن انتقام لیں گے، ملک میں جارحیت کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں گے۔سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ بہت جلد لیا جائے گا، وہ دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔دوسری جانب سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو ان کا جانشین مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے جس میں اب تک ایران میں 86 بچیوں سمیت 201 سے زیادہ ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں، امریکا اور اسرائیل نے 24 صوبوں میں مختلف مقامات پر میزائل داغے جن میں 747 شہری زخمی بھی ہوئے جبکہ اسرائیلی و امریکی میڈیا کی جانب سے ایران کے 40 سے زیادہ حکام کو قتل کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔دوسری طرف ایران نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود 14 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جس میں سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد تیزی آئے گی۔ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکا کے 70شہروں سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں احتجاج شروع ہو گیا، ایران پرمشترکہ حملوں کیایک گھنٹے بعدہی امریکامیں مظاہرین سڑکوں پرنکل آئے۔نیویارک، بوسٹن، لاس اینجلس اورواشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے بھرپوراحتجاج کیا، جنگ مخالف اورفلسطین کے حق میں نعرے لگائے۔ قطری وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں میں 16 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ یو اے ای میں حملے کے دوران ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں میں 1 شخص ہلاک،121 زخمی ہوئے ہیں۔اماراتی وزارت دفاع کی جانب سے رہائشیوں کے موبائل فونز پر سکیورٹی الرٹ بھیجا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ رہائشی فوری طور پر شیلٹر میں چلے جائیں، ایران کے 132 میزائلوں کو تباہ، 195 ڈرونز کو گرا دیا گیا۔اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ڈرون کو تباہ کرنے کے دوران برج العرب ہوٹل کے العرب ہوٹل کے بیرونی حصے میں محدود آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پا لیا گیا، جبکہ دبئی ایئر پورٹ پر میزائل حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے خلاف بحرین کا فضائی دفاعی نظام متحرک ہوگیا، بحرین کے فضائی نظام نے ایران کے 5 میزائل فضا میں تباہ کر دیے۔قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، دوحہ میں تقریبا 15 سے 20 الگ الگ دھماکے ہوئے، قطری وزارت داخلہ کے مطابق ایرانی حملے میں 8 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔تل ابیب میں ایرانی حملے کے بعد متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی، یروشلم میں کئی عمارتیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنیں، اسرائیل نے اپنے شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، سکول اور اسرائیلی فضائی حدود بھی بند کر دی گئی، اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے ایرانی حملوں کو روکنے کیلئے دفاعی نظام فعال ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور بہو بھی شہید ہو گئے، سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی بھی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، ایران کے جنرل حسین سلامی، محمد باقری اور بسیج فورس کے 3 اہلکاروں کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی بھی محفوظ ہیں۔دریں اثنائ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے مشرقِ وسطی میں 27امریکی فوجی اڈوں پر نیا حملہ کردیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC)نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے جواب میں جوابی کارروائیوں کا چھٹا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق 27 امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ اسرائیل کے تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہاکریا (HaKirya) اور اسی شہر میں قائم ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی 11دھماکے سنے گئے ہیں۔ایرانی فورسز نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مزید سخت اور مختلف نوعیت کے انتقامی اقدامات کیے جائیں گے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ایرانی پارلیمانی اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے سرخ لکیر عبور کی ہے، اس کی قیمت چکانا ہوگی، شہید خامنہ ای کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خامنہ ای کی شہادت سمیت ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں