ایرانی وزیر خارجہ کی IAEA کے سربراہ سے ملاقات

جنیوا(نامہ نگار)ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوسرے دور سے پہلے ایران نے سفارتی سرگرمیا ں تیز کر دیں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ۔غیرملکی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موجود ہیں جہاں ان کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات کے دوران ایران کے حفاظتی معاہدوں (سیف گارڈز)کے دائرہ کار اور ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مطابق ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون سے متعلق متعدد تکنیکی امور زیر بحث آئے۔مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے تہران کا تکنیکی موقف بھی پیش کیا گیا۔رافیل گروسی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ اس ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے جنیوا میں (آج)منگل کو ہونے والے اہم مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تفصیلی تکنیکی بات چیت مکمل کر لی ہے۔اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ ایران کے جوہری ماہرین کی ٹیم بھی موجود تھی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق تنازع پر مذاکرات کا دوسرا دور (آج)منگل کوہوناہے جبکہ امریکی جنگی بحری جہازوں کی مشرق وسطی میں تعیناتی نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدے کیلئے ٹھوس تجاویز کے ساتھ جنیوا میں موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیوں کے آگے جھکنا مذاکرات کا حصہ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں