امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ پر بات چیت بند کمرے میں ہو گی اور یہ کہ امریکہ کو صرف بامقصد نکات پر مبنی قبول ہے وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد مذاکرات کیلئے اسلام آباد آئے گا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے’ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں ریلیف پر بات ہو رہی ہے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو متاثر کر رہی ہیں فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ کے شعلے اﷲ نے چاہا تو ہمیشہ کیلئے بجھ جائیں گے، چین’ سعودیہ’ ترکیہ’ مصر’ قطر اور یورپی یونین نے پاکستانی سفارتکاری میں بھرپور تعاون کیا وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے بھی رابطہ کر کے پاکستان کے تاریخی امن کیلئے ثالثی پر دلی مبارکباد دی روس’ برطانیہ’ فرانس’ آسٹریلیا’ ملائیشیا’ جرمنی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپ لیو نے بھی ایران امریکہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا،، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اﷲ کی مدد سے اپنے مسلمان بھائیوں اور دوست ممالک کے ساتھ جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں وزیراعظم نے کہا ایرانی اور امریکی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے میری درخواست کو پذیرائی بخشی اور امن کی خاطر پاکستان کی سنجیدگی اور خلوص کو انہوں نے قبول کیا ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ان تمام مسلمان ملکوں کے سربراہان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے امن کاوشوں میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ وزیراعظم نے کہا جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے اور جنگ بندی پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیدار اور دیرپا امن اور ترقی وخوشحالی ہے اﷲ کرے اسلام آباد میں ہونیوالے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں اور خطے میں امن قائم ہو جائے،، جغرافیائی’ سیاسی تنائو اور تنازعات سے بھری دنیا میں امن اور سفارت کاری کی عالمی کوششیں عالمی اہمیت کی حامل اقدامات شمار کی جاتی ہیں پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جنگ بندی میں اپنا قابل تعریف کردار ادا کر کے عالمی امن کیلئے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے امریکہ اور ایران کے تصادم سے علاقائی اور عالمی استحکام کو خطرہ پیدا ہوا تو ان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ایک ایسے وقت میں جب دونوں جانب مخاصمت عروج پا رہی تھی پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے میں سہولت پیدا کرتے ہوئے فعال سفارتی کردار ادا کیا مسلسل رابطوں اور بیک چینل مذاکرات کے ذریعے پاکستانی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی جسے فریقین نے بالآخر قبول کر لیا جس کے نتیجے میں دو ہفتے کیلئے جنگ بندی ہو گئی فریقین نے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ثالثی میں اس کے تعمیری اور غیر جانبدارانہ کردار کی تعریف کی عالمی راہنمائوں نے جنگ بندی کو تباہی کے دہانے سے واپسی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا جس سے بحرانی حالات میں سفارتی ذرائع کی اہمیت واضح ہوتی ہے اب جبکہ فریقین مذاکرات کیلئے آمادہ ہو چکے ہیں امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران امریکہ جنگ پر بات بند کمرے میں ہو گی۔ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات بند کمرے میں ہوں یا اوپن فریقین کو جنگ بندی قیام امن پر بامقصد مذاکرات کرنے چاہئیں اسی میں خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر کا راز مضمر ہے۔




