ایران’ امریکہ کشیدگی پاکستان مرکزی ثالث (اداریہ)

معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کیلئے مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تاہم وائٹ ہائوس نے فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کی کال پر تبصرے سے گریز کیا جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ثالثی کیلئے کوششوں کی تصدیق کی ہے لیکن اسلام آباد میں مذاکرات کے حوالے سے تبصرے سے انکار کر دیا دوسری جانب ذرائع نے اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں ایران کی نمائندگی اسپیکر باقر’ امریکہ کی وٹکوف جیرڈ کشنز’ جے ڈی وینس کریں گے پاکستان ترکیہ مصر بھی مذاکرات میں شریک ہو سکتے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ کچھ دوست ممالک کے ذریعے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست ملی ہے دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو کی وزیراعظم نے ایران کے صدر اور ایران کے برادر عوام کو عیدالفطر اور نو روز کی مبارکباد دی’ وزیراعظم نے کشیدگی میں کمی’ مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف فوری واپسی پر زور دیا’ پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرانے جا رہا ہے اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور شہباز شریف نے مسعود پزشکیان سے بات کی ہے ٹرمپ نے تہران سے مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بجلی گھر تباہ کرنیکی دھمکی مؤخر کر دی ہے تاہم ابھی واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوشش اور ٹرمپ کا اس بیان میں کوئی باہمی ربط ہے یا نہیں پھر بھی یہ ہے کہ ایران نے جوابی دھمکی بھی دے رکھی تھی، نئے سپریم لیڈر نے پاکستان کے عوام کیلئے خصوصی جذبات کا اظہار کیا تھا واضح رہے کہ ایران کے بعد پاکستان شیعہ آبادی والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ اپنے طاقتور تجزیئے کے مطابق ثالثی کے مقصد کیلئے پاکستان اپنے طاقتور فوجی شخص کے تہران کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار روابط کو استعمال کر رہا ہے، وائٹ ہائوس نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور میڈیا کے ذریعے بات چیت نہیں کی جائے گی جنگ سے پہلے ثالثی میں شامل ملک ترکیہ اب بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچی اسٹیوف ونکوف سے رابطے میں ہے اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب باکن فدان سے بھی بات چیت کی ہے ایران’ پاکستان’ وٹکوف اور قطر کے وزیر خارجہ سے رابطے کئے ہیں ادھر ایرانی سرکاری ذرائع بلاغ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے جبکہ پاسداران انقلاب اس وقت ایران کے عسکری ردعمل کی قیادت کر رہی ہے ماہرین کے مطابق یہ کوشش ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کسی واضح پیش رفت کے آثار نہیں تجزیہ کار صنم وکیل کے مطابق کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ ختم ہونے والی ہے ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے دبائو کے باعث اپنی دھمکی مؤخر کی ہو ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی گھروں پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے کے اہم انفراسٹرکچر خاص طور پر توانائی اور پانی کے منصوبوں کو نشانہ بنائے گا ٹرمپ نے پہلے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہ دی تو امریکہ اس کے بڑے پاور پلانٹس پر حملہ کر دے گا تاہم بعد میں اس اقدام کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی اکثر رومان اور قطر کے ذریعے ہوتی رہی ہے لیکن اس بار ایسی کوششوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ سربراہی اجلاس کے مقام طور پر بھی پیش کیا ہے پاکستان کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی اتحادی ہونے کے باوجود کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود نہیں ہیں اور ایران نے بھی اسے نشانہ نہیں بنایا جس سے وہ ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے،، ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان مرکزی ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے اس وقت پاکستان بیک وقت ایران اور امریکہ کی ثالثی کیلئے بہترین غیر جانبدار ملک کے طور پر منایا گیا ہے لہٰذا امریکہ اور ایران دونوں کو پاکستان کی میزبانی میں کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کرنے چاہئیں کیونکہ خلیجی ممالک کو اس کشیدگی سے معاشی نقصان ہو رہا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں دشواری کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہوا جو کسی صورت بھی خلیجی اور ایشیائی ممالک کیلئے قابل قبول نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کیلئے بامقصد مذاکرت کیلئے آگے آئیں اور خطے میں امن کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں