ایران جنگ’ فیلڈ مارشل کا دورہ سعودیہ (اداریہ)

آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی اس موقع پر دفاعی معاہدے کے تحت سعودی علاقوں پر ایران کے حملوں کو روکنے کیلئے مشترکہ پر مشاورت کی گئی فریقین نے اس امیدوار خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کیلئے سمجھداری اور دانش کا مظاہرہ کرے گا اور موجودہ بحران کے پُرامن حل کیلئے کوشاں دوست ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا ملاقات میں خطے کی سکیورٹی اور استحکام کیلئے حکمت کوشاں دوست ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا ملاقات میں خطے کے سکیورٹی اور استحکام کیلئے حکمت عملی اور احتیاط کے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔ علاوہ ازیں ایک بیان میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مملکت پر ہونیوالے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں ایران غلط اندازوں اور غلط فہمی سے گریز کرے گا آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں سعودی علاقوں پر ایرانی ڈرون اور میزائل محلوں سے پیدا ہونے والی سنگین سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی دونوں راہنمائوں نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ان حملوں کو روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بلااشتعال جارحیت نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ استحکام کیلئے جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جس سے تنازعات کے پرامن حل کے راستے محدود ہو جاتے ہیں فیلڈ مارشل کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات میں ایرانی حملے روکنے کیلئے مشترکہ دفاعی معاہدے پر بات چیت کی گئی پاکستان اور سعودی عرب نے ایرانی حملوں کے درمیان دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی ملاقات میں سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف فیاض بن حامد الرویلی اور وزیردفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف بھی موجود تھے اس ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں اور انہیں روکنے کیلئے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مملکت پر ہونیوالے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ایران کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غلط اندازوں اور غلط فہمی سے گریز کرے گزشتہ روز دارالحکومت ریاض کے جنوب میں واقع پرنس سلطان ائیربیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم دفاعی نظام نے ان حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا تھا سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع شیبہ آئل فیلڈ پر 17 ڈرونز آئل فیلڈ پر 17 ڈرونز کے ذریعے حملے کئے گئے جسے کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا تمام ڈرونز تباہ کر دیئے گئے، ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکبان نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کئے جائیں گے ایک بیان میں انہوں نے کہا گزشتہ دنوں ہونیوالے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں ہمارا کسی دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ’ میزائل حملہ نہ کرنے کی منظوری دے دی ہے،، ایران جنگ’ فیلڈ مارشل کا دورہ سعودیہ بہت اہمیت کا حامل ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی اور ان سے سعودی علاقوں پر ایران کے حملوں کو روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی مشاورت کی جس کا بڑا مقصد ایران کے حملوں کے جواب میں حکمت عملی مرتب کرنا تھا، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کی قیادت کسی بھی حملے یا جارحیت کی صورت میں مناسب فیصلہ کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ایران کے صدر نے پڑوسی ملکوں پر ڈرونز اور میزائل حملوں پر ان ممالک سے معذرت کی ہے اور آئندہ کوئی حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جو اچھی بات ہے پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے کے باعث سعودی عرب پر کسی بھی حملے کا جواب دینا جانتے ہیں تاہم ایران کی طرف سے معذرت کے بعد ممکن ہے جواب دینے کی ضرورت پیش نہ آئے موجودہ کشیدگی میں خلیجی ممالک کو بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہے اور اس کشیدگی کو کم کرنا ہے تاکہ خطے میں امن کی فضاء کو قائم رکھنے میں مدد مل سکے ایران کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑچھاڑ نہ کرے بلکہ معذرت کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی طرف سے دوستی کا ہاتھ بڑھائے اسی میں ایران کی بھلائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں