140

ایران پر اسرائیلی حملہ یہود وہنود سازش کا شاخسانہ (اداریہ)

یہود وہنود کا بڑھتا ہوا اتحاد خطے میں امن کیلئے بڑا خطرہ ہے بھارت کا 6مئی کا پاکستان پر حملہ بھی اسی نقطہ نظر کا حامل لگتا ہے اور یہود وہنود نے اپنی توقعات کو بُری طرح ٹوٹ کے گرنے کے بعد اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنا شروع کر دیا ہے اسرائیل کے ذریعے ایران کو تباہ کر کے اور رجیم کی تبدیلی کی کوشش کی رجیم کی تبدیلی کے ذریعے ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ایجنڈا تھا ایران سے پاکستان کو قابو کرنے کا منصوبہ ابھی جاری ہے اور را اور موساد سی آئی اے مکمل طور پر ایران کی گلی کوچوں تک پھیل چکا ہے یہی وجہ ہے کہ ایران انکی سیکریسی میں ناکام رہا ہے اور ایرانی فوجی قیادت اور ایٹمی ماہرین کی قیادت کی شہادتیں منہ بولتا ثبوت ہے اس سے قبل ایرانی صدر کی شہادت اور حماس اور حزب اﷲ کی مہمان قیادت کا خاتمہ اسرائیل امریکہ منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ایران کوشش کر رہا ہے مگر گزشتہ 30سالوں کی سفارتی تنہائی نے ایران کی مشکلات میں بہت اضافہ کیا ہے ایران اپنی ناکامیوں کے باوجود اب بھی دنیا میں کوششوں کے بعد ایران کو اپنے دشمن کو پہچان کر آگے بڑھنے اور اپنے اوپر اعتماد کا رشتہ بہتر حالات پیدا کر سکتا ہے ایران پر اسرائیلی حملہ دراصل یہود وہنود سازش کا شاخسانہ ہے را اور موساد کا 1980ء سے جاری خفیہ تعاون اب باقاعدہ دفاعی اتحاد بن چکا ہے جس کا مقصد خطے میں بدامنی پھیلانا ہے بھارت اور اسرائیل کا دفاعی گٹھ جوڑ اب صرف اسلحہ نہیں بلکہ سائبر سکیورٹی اور انٹیلی جنس تک پھیل چکا ہے گزشتہ دس سالوں میں بھارت نے اسرائیل سے 9.2بلین ڈالر مالیت کا فوجی ہارڈویئر جس میں ریڈار نگرانی جنگی ڈرون اور میزائل درآمد کئے اسرائیلی ڈرونز بھی اپنے ہتھیاروں میں شامل کئے بھارت نے پاکستان میں اسرائیل کے ساختہ ہتھیار بشمول ڈرونز استعمال کر کے اسرائیل کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کا ثبوت پیش کر دیا ہے جدید دفاعی سازوسامان اسرائیل کے تعاون سے بھارت میں تیار بھی کیا جا رہا ہے جو بھارتی سرحدوں پر جدید نگرانی کے نظام کا حصہ بن چکا ہے پاکستان ر بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص نے بھارت کو پاکستان کی عسکری قوت دکھا دی بھارت اپنی شکست پر ابھی تک پیچ وخم کھا رہا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ پاکستان بھی اپنے دفاع سے غافل نہیں اور اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوششیں کی تو پھر بھارت کی وہ درگت بنائے گا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا پوری دنیا پاکستان کی عسکری قوت اور بہادر افواج کی دلیری سے واقف ہے اس وقت خطے میں پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور سازشیں تیار کی جا رہی ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہو گا بھارت ایران کا دوست بن کر اس کے خلاف دشمنوں کی مدد کرے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا تاہم اسرائیلی حملے کے بعد ایران کو پتہ چل چکا ہے کہ اس کا پڑوسی بھارت اس کی تباہی کیلئے یہودیوں کا آلہ کار بن چکا ہے ایسے میں ایران کو مسلمان مملکتوں کے ساتھ اپنے رویہ کو درست کرنا ہو گا اور اپنی دفاعی قوت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہو گا اسرائیل ایران کو مٹانے کے درپے ہے مگر ایران کی جانب سے میزائل حملوں نے اس کے اوسان خطا کر دیئے ہیں اور اب تو اسرائیلی عوام بھی نیتن یاہو کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے امریکہ اپنے مقاصد کیلئے ایران پر دبائو بڑھا رہا ہے مگر ایران کسی دبائو میں خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی ضد پر قائم ہے کہ وہ کسی صورت بھی ایٹمی قوت کے حوالے سے امریکہ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکی صدر نے ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا کہا ہے مگر اسرائیل کبھی نہیں مانے گا” دوسری جانب پاکستان کے دفاعی وعسکری ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان بھی یہود وہنود کے نشانے پر ہے پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ موجودہ اسرائیل اور ایران جنگ میں استعمال ہونے والے حربوں کا گہرا تجزیہ کرے اور پاکستان کو اندر سے مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے اب زمینی جنگوں کا وقت گزر چکا ہے اور وہی ملک فتح حاصل کرے گا جو ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہو گا پاکستان نے بھارت سے حالیہ جنگ کے دوران بہتر ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا پاکستان کو عسکری معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے ثابت ہو چکا کہ امریکہ اور اسرائیل کسی قانون انسانیت اور اخلاق کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتے انہوں نے اقوام متحدہ کو ایک بے معنی عالمی ادارہ بنا دیا ہے ایران جوہری توانائی کے سلسلے میں عالمی قوانین اور معاہدوں کا پابند ہے جبکہ اسرائیل طاقت کے نشے میں عالمی قوانین کی پرواہ نہیں کر رہا موجودہ حالات میں عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے عالمی قوتوں کو اسرائیل ایران جنگ بندی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس میں جوہری ہتھیار بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں