ایران کیخلاف جنگ،امریکہ کی داخلی سیاست میں ہلچل ،ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئیں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کیخلاف جنگ ، امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں، امریکہ کو ایران تنازع سے فورا نکلنا چاہیے، ٹکر کارلسن، ریپبلکن ووٹروں میں ایران جنگ پر واضح اختلافات، ریپبلکن میگا حامی اور دیگر ووٹروں میں جنگ پر تقسیم، جو روگن اور میجوری ٹیلر گرین نے ایران جنگ کو غیر ضروری قرار دیا۔وائٹ ہائوس کی دفاعی مہم میں متضاد بیانات تنقید کا سبب، 54فیصد امریکی ایران پالیسی کے مخالف، تھامس میسی، میگن کیلی، جان میرشمائر، میٹ گیٹز، سینیٹر ٹام کاٹن مخالف آوازیں نظر آ رہی ہیں۔ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ موقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکہ کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اختلاف نے پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ امریکی میڈیا کی معروف شخصیت اور طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکہ کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اسی تناظر میں سامنے آنے والے سروے بتاتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ اگرچہ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے۔امریکہ میں عموما دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریبا 89فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریبا 77فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔ جو ووٹر خود کو میگا یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریبا دس میں سے نو افراد جنگ کے حامی ہیں جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو انتہائی پاگل پن قرار دیا ہے۔ اسی طرح سابق رکنِ کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔کانگریس کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی۔ اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔دریں اثنائ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، پاسداران انقلاب کے مطابق سعودی عرب الخرج میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کیا جہاں ایف 35اور ایف 16لڑاکا طیاروں کے تربیتی مراکز کونشانہ بنایا، پاسداران انقلاب نے بتایا کہ 51واں حملہ شہید ابو القاسم بابائیان اور ان کی زوجہ کی یاد میں کیا گیا۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر مشرقِ وسطی میں ہزاروں انٹرسیپٹر ڈرون بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آکٹوپس نامی انٹرسیپٹر اینٹی ڈرون سسٹم کو مشرقِ وسطی میں ایران کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔یہ انٹرسیپٹر برطانیہ میں تیار کیا جاتا ہے اور پہلے ہی یوکرین کو روس کے خلاف دفاع کے لیے فراہم کیا جا چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیاکہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی، خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا، ممکن ہے کہ خارگ جزیرے پر صرف تفریح کے لیے چند بار اور حملہ کریں۔امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران تنازع ختم کرنے کیلئے ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک ایران کی پیش کردہ شرائط اچھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں