ایران کی جنگ روکنے کیلئے6شرائط ،اسرائیل پر ملٹی وار ہیڈ میزائل داغ دئیے

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے ایک اعلی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ روکنے کے لیے علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں کو 6سٹریٹجک شرائط پیش کی ہیں۔عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے، عہدیدار نے نئے قانونی اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں جن میں سے اولین شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی کرائی جائے۔دوسری شرط خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔چوتھی شرط تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی و سیاسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی شرائط کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے ، ایرانی میڈیا نے ایک سکیورٹی و سیاسی عہدیدار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو سٹریٹجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔انہوں نے دشمن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب دشمن کی فضاوں پر مکمل قابو حاصل کیے ہوئے ہے، اس صورتحال میں ایران جنگ بندی کے فوری امکانات نہیں دیکھ رہا۔دریں اثنائ۔تہران، مقبوضہ بیت المقدس، واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطی میں جنگ 25ویں روز میں داخل ہو چکی ہے، اسرائیل نے ٹرمپ کا حملے موخر کرنے کا فیصلہ نظرانداز کرتے ہوئے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا، جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ملٹی وار ہیڈ میزائل داغ دیے۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، 78ویں لہر کے دوران خطے میں امریکی اہداف اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔پاسداران انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اب تک پاسداران انقلاب کی زیادہ تر جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔ادھر ایرانی فوج نیکہا کہ صدر ٹرمپ ٹیلیفون اورسوشل میڈیا سے اپنا سرہٹائیں اور اپنی آنکھوں کو آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، ایران بڑا سرپرائز دینے والا ہے۔پاسداران انقلاب کے ختم الانبیابریگیڈ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا جملہ طنزا دہرایا کہ ٹرمپ یو آر فائرڈ، تھینک یو فاراٹینشن ٹو دِس میٹر۔قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم کا امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہنا تھا کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللہ پر حملے جاری رکھیں گے۔نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا اور ایران امن بات چیت کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے تمام مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، ایسا معاہدہ ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا۔فارس نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے وسطی اصفہان میں ایک ہی سڑک پر واقع گیس کی ایک انتظامی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس حملے سے ان تنصیبات کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، مغربی ایران میں واقع خرمشہر پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ان حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جنہیں ان کی جانب سے دشمن کے میزائل اور ڈرون حملے قرار دیا ہے۔کویتی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب ہونے والا تیسرا حملہ ہے اور اس سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا اسی نوعیت کا بیان ہے۔عراق کے دو سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ موصل سے شمال مشرقی شام میں واقع امریکی بیس کی جانب میزائل داغے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے، امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم سات میزائل داغے گئے۔مغربی موصل کے علاقے ربیعہ میں میزائل لانچر برآمد کر لیا گیا اور شام کی جانب سات میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک جلی ہوئی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا ہے جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رضاکار فورس (بسیج) کے یونٹوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ہیڈکوارٹر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یونٹوں کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس کے علاوہ یہ بسیج بریگیڈز کی رہنمائی کا بھی ذمہ دار تھا۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک امریکہ 158 ایرانی جہاز تباہ کر چکا ہے۔امریکی صدر نے ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں ایک تقریب کے دوران کہاکہ ہم نے ان کے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو تباہ کر دیا ہے اور ہم ان کے بحری بیڑے کو ختم کرنے کے عمل میں ہیں، اب تک 158 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ ایران کی جانب سے ڈرونز اور میزائل داغنے کی رفتار میں 90 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں