ایندھن اور توانائی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے بھرپور اقدامات

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت چیمبرز آف کامرس اور صنعت و تجارت کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے میں پرعزم ہے، حکومت کی فوری ترجیح ملک بھر میں ایندھن اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے، پٹرول، ڈیزل، خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کی دستیابی پر کڑی نظر ہے،عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہونیوالے ممکنہ دبائو سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں راولپنڈی چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹریز کے وفد سے ملاقات میں کہی، ملاقات میں معاشی استحکام، اصلاحات کے ایجنڈا اور توانائی سے متعلق امورپرگفتگو ہوئی۔ وفد کی قیادت گروپ لیڈرسہیل الطاف اور صدرعثمان شوکت کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال، کاروباری برادری کے خدشات اور آر سی سی آئی وفدکے حالیہ دورہ امریکہ کے نتائج پر تعمیری تبادل خیال ہوا۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے آر سی سی آئی کی جانب سے امریکہ میں پالیسی سازوں، کاروباری رہنمائوں اور معاشی اداروں کے ساتھ رابطے استوارکرنے کوشش کی تعریف کی اور کہا کہ اس نوعیت کے روابط پاکستان کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنے اور اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔ وزیرخزانہ نے نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ عرصے کے دوران معاشی استحکام کی بحالی اور معیشت کی بنیادی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے مشکل مگر ضروری اقدامات کیے، ان اقدامات کے نتیجے میں سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، اہم معاشی اشاریے بھی مستحکم ہوئے ہیں۔ ان پیش رفتوں کو مستقبل کی ترقی کے لیے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اب اگلے مرحلے میں اس استحکام کو پائیدار سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور کاروباری اعتماد کو متاثر کرنے والے ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منظوری کے عمل کو آسان بنانے، ریگولیٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف معاشی اشاریوں پر نہیں ہوتا بلکہ پالیسیوں کے تسلسل، پیش بینی اور موثر تنازعاتی حل کے نظام پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں آر سی سی آئی کی ملاقاتوں کے دوران موصول ہونے والی آراء کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے گا۔ ٹیکس نظام اور کاروباری سہولت کاری کے حوالے سے سینیٹر اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت چیمبرز آف کامرس اور صنعت و تجارت کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ باقاعدہ مکالمہ اس لیے ضروری ہے تاکہ ٹیکس پالیسیوں کو معاشی حقائق کے مطابق ڈھالا جا سکے اور نظام میں انصاف کو یقینی بناتے ہوئے ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے تعمیل بہتر بنانے اور ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت بڑھانے پر کام کر رہی ہے، کاروباری برادری کے جائز خدشات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے وفد کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں عالمی تیل اور توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی فوری ترجیح ملک بھر میں ایندھن اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر ایندھن کے ذخائر، سپلائی چین اور مارکیٹ کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بروقت قیمتوں میں ردوبدل مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے اور سپلائی چین کے موثر انداز میں کام جاری رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرول، ڈیزل، خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کی دستیابی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ دبائو سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے تحفظ اور محتاط استعمال سے متعلق اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ طلب کو متوازن رکھا جا سکے اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس سے قبل آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے وزیر خزانہ کا وفد کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے پرشکریہ اداکیاگیا۔ انہوں نے اجلاس کو آر سی سی آئی کے حالیہ دورہ امریکہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد معاشی مواقع کا جائزہ لینا اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ عثمان شوکت نے بتایا کہ وفد نے واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں امریکی قانون سازوں، سینیٹرز، معاشی ترقی سے متعلق اداروں اور کاروباری چیمبرز کے ساتھ 14 ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کو مثبت اور حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حلقوں میں پاکستان کے ساتھ معاشی روابط کو مضبوط بنانے میں نمایاں دلچسپی پائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ان ملاقاتوں میں دواسازی اور صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات و کان کنی، اسٹیل، تعمیرات اور آٹوموبائل سمیت مختلف شعبوں میں ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فریقین نے پاکستانی کاروباری برادری کو صرف برآمدات تک محدود نہ رہنے بلکہ سرمایہ کاری شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے کی بھی ترغیب دی جس سے دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کے معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ آر سی سی آئی کے صدر نے وفد کی یوایس پاکستان بزنس کونسل،ڈیپارٹمنٹ آف سٹیس اوردیگراداروں اور نیویارک و نیو جرسی میں کاروباری تنظیموں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط سے درمیانے درجے کی سرمایہ کاری شراکت داری اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے روشن امکانات سامنے آئے ہیں۔ عثمان شوکت نے مزید بتایا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نڑاد کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے ساتھ ملاقاتوں سے ٹیکنالوجی، صحت اور جدت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے سرمایہ کاروں کی توقعات کے بارے میں خاص طور پر پالیسی کے تسلسل، مؤثر ریگولیٹری عمل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مضبوط ادارہ جاتی معاونت کے حوالے سے قیمتی معلومات حاصل ہوئیں،آر سی سی آئی کے گروپ لیڈر سہیل الطاف اور وفد کے دیگر ارکان نے بھی اجلاس کے دوران اپنی آرا پیش کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید تقویت دینے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنائیں۔ دواسازی، آئی ٹی، مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں کے نمائندوں نے برآمدات کے فروغ، بہتر ریگولیٹری ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں کو درپیش طریقہ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے آر سی سی آئی کے بریفنگ اور رابطہ کاری کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولت کاری کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ آر سی سی آئی کے وفد نے بھی معیشت، ٹیکس نظام اور توانائی کی صورتحال پر وزیرِ خزانہ کی تفصیلی بریفنگ کو سراہتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل رابطہ کاری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں