اینٹی کرپشن آفس اور تھانہ میں افسران کے ”کار خاص”کارندوں کا راج

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) اینٹی کرپشن فیصل آباد کے دفتر اور تھانہ میں افسران کے ”کارخاص” کارندوں کا راج’ محرر کیساتھ ساتھ پرائیویٹ افراد کے ذریعے سائلین سے نذرانے وصول کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا’ اعلیٰ حکام نے چپ سادھ لی’ سرکاری محکموں کے افسران واہلکاروں کے ستائے ہوئے افراد محکمہ اینٹی کرپشن میں بھی نذرانے دینے پر مجبور ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس’ محکمہ مال کے بالخصوص اور دیگر سرکاری محکموں کے افسران واہلکاروں کے ہاتھوں لٹنے والے افراد دادرسی کیلئے محکمہ اینٹی کرپشن میں درخواستیں گزارتے ہیں تو وہاں پر اینٹی کرپشن کے افسران وعملہ بھی ان کو لوٹنے لگا’ جہاں پر بعض افسران اور تھانہ محرر نے اپنے پرائیویٹ افراد (کارخاص) کو رکھا ہوا ہے۔ افسران وعملہ سائلین کی دادرسی کی بجائے بار بار دفتر اور تھانوں کے چکر لگواتے ہیں۔ جبکہ ان کا کارخاص سائلین کو کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کام کروانا ہے تو ان کی مٹھی گرم کی جائے اور مختلف کمپنیز اور رقوم کی ریکوری کے لحاظ سے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ نذرانہ ادا کرنے کے بغیر جینوئن کام کروانا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ جب سائلین پرائیویٹ افراد کو نذرانہ وصول کرنے کے بعد افسران ومحرر کو ”اوکے” کی آواز دیں تو ان کا کام کیا جاتا ہے۔ تمام حالات کو دیکھتے ہوئے بھی اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران نے چپ سادھ رکھی ہے کیونکہ ان کو حصہ پہنچ جاتا ہے۔ شہری حلقوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور’ ڈی جی اینٹی کرپشن اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصل آباد میں اینٹی کرپشن کی کرپشن کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔ رشوت ستانی کو روکنے کیلئے مذکورہ محکمہ بنایا گیا ہے لیکن وہاں پر تعینات افسران وعملہ کی کرپشن کے خاتمہ کو یقینی بنایا جائے اور ایماندار اور فرض شناس افسران وعملہ کو تعینات کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں