145

ایٹمی دھماکوں کی 26ویں سالگرہ آج (اداریہ)

پوری قوم آج ایٹمی دھماکوں کی 26ویں سالگرہ منا رہی ہے، بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28مئی 1998ء کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں وفاقی حکومت نے بلوچستان کے علاقے چاغی کے پہاڑوں میں سات ایٹمی دھماکے کر کے پوری دنیا کو اپنی دفاعی تیاریوں سے آگاہ کر دیا تھا خصوصاً بھارت کو یہ بتا دیا کہ وہ کسی بھول میں نہ رہے بھارت نے 11مئی 1998ء کو پاکستانی سرحد سے 93کلومیٹر دور یوکھران (راجھستان) میں تین ایٹمی دھماکے کئے تھے ان ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی حکومت دفاعی ماہرین اور انڈین پرنٹ میڈیا کا لب ولہجہ سے بھی زیادہ دھمکی آمیز اور غرور وتکبر سے بھر گیا تھا اور وہ پاکستان کو برملا للکارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا بھی اب پتہ چل جائے گا لیکن جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا بھارتی حکمرانوں کو چپ لگ گئی اور وہ سوچتے رہ گئے کہ یہ کیسے ہو گیا بھارت نے جب 1974ء میں ایٹمی دھماکے کئے تھے تو پاکستانی حکمرانوں نے اسی وقت سے یہ سوچ لیا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے اس کام کا آغاز ہوا ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کے سائنس دان ساتھیوں نے دن رات ایک کر کے ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس حوالے سے پاک فوج کی ہر لمحہ مدد سائنس دانوں کے ساتھ رہی 11مئی 1998ء کو بھارت کی جانب سے دوسری مرتبہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان نے نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا ارادہ کیا اور بالآخر عالمی قوتوں کی تمام تر رکاوٹوں اور بھاری رقوم کی پیشکشوں کے باوجود نواز شریف نے سات ایٹمی دھماکے کئے جس کے بعد عالمی قوتوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے 28مئی 1998ء کا دن ایک ایسی یادگار کے طور پر ہر محب وطن پاکستانی کے دل پر نقش ہے جب پاکستان کے ازلی دشمن اور اکھنڈ بھارت کا جواب دیکھنے والوں کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں استعماری قوتوں کی مخالفت اور ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے عوض اربوں ڈالر کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے 7ایٹمی دھماکے کئے پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کر دی دھماکوں کے بعد بھارت کو چپ لگ گئی تھی اور اکڑ اکڑ کر دھمکیاں دینے والے ہندو خوفزدہ ہو کر گھروں میں چھپ گئے تھے آج سے 50سال قبل یہ کہانی بھارت نے چھیڑی تھی مئی 1974ء کے بھارتی ایٹمی تجربات نے پوری دنیا کو متوجہ کیا تو پاکستان نے بھی خطے میں بالادستی قائم کرنے کے بھارتی ارادوں کو بھانپ لیا اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے خاموشی کے ساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدان بیرون ملک پر تعیش زندگیاں چھوڑ کر رضاکارانہ طور پر اس پروگرام کا حصہ بنے چند سال کے بعد ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے بڑی کامیابی حاصل کر لی اور 80کی دہائی کے اوائل تک پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا اب دنیا کو بتانا تھا کہ ہم ایٹمی قوت بن چکے ہیں اس کے لیے پاکستان کو پندرہ برس انتظار کرنا پڑا جب بھارت نے 11مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کئے تو یہی وہ موقع تھا جس کی تلاش پاکستان کو تھی پھر دنیا نے دیکھا کہ 28مئی 1998ء کی سہ پہر چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے سات ایٹمی دھماکے کر کے اپنی دفاعی قوت کا اعلان کر دیا آج 28مئی کو ہم ایٹمی دھماکوں کی 26ویں سالگرہ منا رہے ہیں، ہم نے ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو مناسب جواب تو دے دیا اب ضرورت اس امر کی ہے ہم اس یوم تکبیر پر وطن عزیز کے بدخواہوں کو معاشی میدان میں بھی بھرپور جواب دینے کا عہد کریں بہترین یکسو اور یک آواز معاشی پالیسیوں کے ذریعے جہاں عوام کو بھرپور ریلیف دیں ملک کو آگے بڑھائیں کشکول توڑ ڈالیں اور دفاعی بنیادوں کو معاشی فولاد فراہم کر کے ناقابل تسخیر بنا دیں اسی میں ہماری ترقی واستحکام کا راز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں