اے آئی پاور روبوٹس کیا کیا کام کر سکتے ہیں

ابو ظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک )اے آئی پاور روبوٹس زمینی اور فضائی سفر کے طریقوں کو بدل سکتے ہیں، یہ روبوٹس آپ کی گاڑی کو فیول بھی کرسکتے ہیں بلکہ اب تو انہیں متحدہ عرب امارات کے ایک گیس اسٹیشن پر ٹیسٹ بھی کیا جارہا ہے۔،روبو ٹیکسی اب ایک حقیقت ہے، ویمو اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں پہلے ہی امریکا میں خود کار ٹیکسی سروسز کے ابتدائی ورژن متعارف کروا چکی ہیں۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ایک رپورٹ کے مطابق کاواساکی نامی کمپنی نے حال ہی میں ایک لائن روبوٹ متعارف کرایا ہے، جو سال 2050تک سڑکوں یا جنگلی راستوں پر نہ صرف چل سکے گا بلکہ دوڑے گا بھی۔اپنے چار پیروں کے ساتھ یہ روبوٹ ایسے مقامات پر جانے کیلیے بنایا گیا ہے جہاں گاڑی نہیں جاسکتی۔ مثلا دور دراز پہاڑی علاقے اور پتھریلی چٹانیں وغیرہ۔مستقبل میں مذکورہ روبوٹس صرف زمین تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ بہت جلد آپ کو فضاؤں میں بھی پرواز کرتے نظر آئیں گے۔اسی طرح اوپر ویڈیو میں دکھائی جانے والی یہ خود کار روبو ٹیکسی اندرون ملک پروازوں کیلیے بنائی گئی ہے، کمپنی کے مطابق اسے ابتدائی طور پر امریکا اور جاپان کے شہروں میں اوبر کی طرح بک کیا جاسکے گا اور یہ سہولت 2030 تک دستیاب ہوگی۔واضح رہے کہ اے آئی روبوٹ ایک قسم کی مشین ہے جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایسے کام انجام دیتی ہے جن کے لیے عام طور پر انسانی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ روبوٹ تجربے سے سیکھ سکتے ہیں، نئے ان پٹ کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور براہ راست انسانی مداخلت کے بغیر پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں۔اے آئی پاور روبوٹس نے مختلف صنعتوں میں ایک جدید تبدیلی پیدا کی ہے، آٹو میٹک گاڑیوں سے لے کر کسٹمر سروس بوٹس تک، یہ مشینیں بہت زیادہ معلومات پر کارروائی کرنے اور کاموں کو ہم سے زیادہ مثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔سوال صرف یہ نہیں ہے کہ اے آئی روبوٹ کیا ہے، بلکہ یہ ہماری زندگیوں اور صنعتوں پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔مثال کے طور پر صحت کی دیکھ بھال میں اے آئی روبوٹس سرجریوں میں مدد کرکے، مریضوں کے ڈیٹا کا انتظام کرکے اور یہاں تک کہ بزرگ مریضوں کو صحبت فراہم کرکے دنیا کو حیرت زدہ کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں