اے سی آر میں منفی ریمارکس سے پہلے قانونی تقاضے پورے کرنیکا حکم

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) بغیر وارننگ اے سی آر میں منفی ریمارکس دینا غیر قانونی قرار، پنجاب سروس ٹریبونل کا ملازم کے حق میں اہم فیصلہ۔ سرکاری ملازمین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت میں پنجاب سروس ٹربیونل نے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی سالانہ رپورٹ (ACR/PER) میں بغیر پیشگی وارننگ یا ٹھوس شواہد کے منفی ریمارکس درج کرنا قانون کے خلاف ہے۔ ٹریبونل نے واضح کیا کہ افسران کسی بھی ملازم کی کارکردگی رپورٹ میں منفی ریمارکس شامل کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنے کے پابند ہیں۔فیصلے کے مطابق اگر کوئی افسر اپنے ماتحت ملازم کی کارکردگی رپورٹ میں منفی ریمارکس دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے ملازم کو اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تحریری یا زبانی طور پر تنبیہ کرنا ضروری ہے تاکہ ملازم اپنی کارکردگی بہتر بنا سکے۔ٹریبونل نے مزید قرار دیا کہ کسی بھی منفی ریمارکس کے لیے محض ذاتی پسند یا ناپسند کافی نہیں بلکہ الزامات کے حق میں ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد ہونا ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت ملازم کو اپنا موقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا مکمل موقع دینا بھی لازمی ہے، بصورت دیگر ایسے ریمارکس قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتے۔کیس کی تفصیلات کے مطابق ایک پولیس اہلکار رب نواز کی اے سی آر میں کانٹر سائننگ افسر نے بغیر کسی واضح وجہ اور پیشگی وارننگ کے منفی ریمارکس درج کر دیے تھے۔ بعد ازاں معاملہ ٹریبونل میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اعلی عدالتی نظائر کی روشنی میں ان ریمارکس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہلکار کے سروس ریکارڈ سے فوری طور پر حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ماہرین کے مطابق ٹریبونل کا یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے ان ملازمین کو تحفظ ملے گا جو افسران کی ذاتی عناد یا بغیر کسی ٹھوس وجہ کے خراب ریمارکس کا سامنا کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ سرکاری محکموں میں کارکردگی رپورٹس تیار کرتے وقت شفافیت اور قانونی تقاضوں کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں