بارکھان(نامہ نگار) بلوچستان کے علاقے بارکھان میں کوئٹہ سے فیصل آباد آنے والی مسافر بس سے 7مسافروں کو اتار کر قتل کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر بارکھان وقار خورشید عالم کے مطابق مسافر بس کو بارکھان کی تحصیل رکھنی میں ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی شاہراہ پر نشانہ بنایا گیا۔ڈی سی بارکھان کا بتانا ہے کہ مسلح افراد نے مسافر بس کو روکا اور اس میں سوار افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 7مسافروں کو اتارا اور بعد ازاں انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا۔ملزمان نے بس نہ روکنے پر بس کے ٹائروں پر فائرنگ بھی کی، واقعہ کے بعد قریبی علاقوں سے لیویز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے کی طرف روانہ کی گئی۔دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد لورالائی، کنگری اور قریبی علاقوں کے مختلف مقامات پر مسافر بسوں اور گاڑیوں کو انتظامیہ نے احتیاطاً روک دیا ہے، جبکہ مقتولین کی لاشیں رکھنی ہسپتال منتقل کرکے وہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔بس سوار ایک مسافر ذیشان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم بس میں کوئٹہ سے ملتان جارہے تھے کہ دس بارہ مسلح افراد نے بس کو روکا۔ذیشان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی عدنان کو شناختی کارڈ دیکھ کر بس سے اتارا اور قتل کردیا گیا۔سانحہ میں متاثرہ خاندان کی مسافر خواتین نے بتایا کہ ہم کوئٹہ سے فیصل آباد جارہے تھے، ہمارے بھائی کا شناختی کارڈ دیکھا اور دھکے مارتے ہوئے بس سے اتارا۔قتل ہونے والوں میں فیصل آباد کے علاقے پیپلز کالونی نمبر2حسینیہ چوک کا رہائشی شوکت علی بھی شامل ہے۔



