78

بجلی بلوں میں ریلیف پنجاب حکومت کا عوام دوست اقدام (اداریہ)

حکومت پنجاب کی جانب سے 14روپے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کے فیصلے سے عوام کی جانب سے وزیراعلیٰ کے اقدام کو سراہا جا رہا ہے صوبائی حکومت نے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے اگست اور ستمبر کے بجلی بلوں میں ریلیف دینے کیلئے 45ارب روپے بجلی کمپنیوں کو فراہم کرنے کیلئے سرکاری سطح پر اقدام شروع کر دیئے گئے ہیں جو خوش آئند ہے مسلم لیگ (ن) کے صدر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 17اگست 2024ء ایک پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے ہمراہ بجلی بلوں میں 14روپے فی یونٹ ریلیف دینے کے موقع پر کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ریلیف دیا تاہم ان کو چاہیے کہ وہ بجلی کے نرخوں میں مزید کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کریں،، پنجاب کی طرف سے صوبہ اور اسلام آباد کے عوام کیلئے ریلیف کی فراہمی کیلئے 45ارب روپے کی فراہمی کے اعلان پر وزیراعظم شہباز شریف نے جرأت مندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے صوبے بھی بجلی بلوں میں عوام کو ریلیف دیں،، مریم نواز شریف کی جانب سے پنجاب اور اسلام آباد کیلئے بجلی نرخوں میں 14روپے کے ریلیف کے بعد KP، سندھ، بلوچستان حکومتوں نے بھی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کے عوام کو بھی ریلیف فراہمی کا اعلان کیا جائے جس کے جواب میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کے مختلف ترقیاتی کاموں سے پیسے نکال کر عوام کو ریلیف دیا ہے دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کریں اور اس کام کیلئے رقوم نکال کر بجلی کمپنیوں کو ادا کریں اور عوام کو ریلیف دیں، پنجاب حکومت کا بجلی بلوں میں 14روپے کا ریلیف بلاشبہ عوام دوست فیصلہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے! اس وقت توانائی کی قلت’ خصوصاً بجلی کی پیداوار’ تقسیم اور نرخ پاکستان کے ایسے سنگین مسائل ہیں جو عشروں سے عوام کے مصائب ومشکلات میں اضافہ کرتے آئے ہیں، ہر حکومت دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے نتیجے میں لوگوں کو ریلیف ملے گا اور ان کی زندگی آسان ہو جائے گی لیکن کرپشن’ بدنظمی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے عام آدمی کی شکایات کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی گئیں اس کی تازہ ترین مثال آئی پی پیز کے غیر منصفانہ معاہدوں’ بجلی کی چوری’ مہنگے ایندھن کے استعمال اور اہل کاروں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے جاری ہونیوالے بجلی کے بھاری بل ہیں جو صارفین پر بجلیاں گرا رہے ہیں کاروبار ٹھپ’ کارخانے ملیںبند ہو رہی ہیں زراعت جیسے سیکٹر کی حالت بھی بدتر ہوتی جا رہی ہے تجارتی خسارہ زوال کی آخری حد کی طرف بڑھ رہا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر بجلی چوروں کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ہے، تاہم وزیراعظم کے احکامات اور ہدایات نئی نہیں ہیں ماضی میں بھی ایسے اقدامات کا مژدہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن بجلی جوری کی نا کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی دوسری خرابیوں پر قابو پایا جا سکا ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی چوری لائن لاسز پر قابو پانے اور بدعنوانی روکنے کیلئے حکمت عملی تبدیلی کی جائے ہمارے خیال میں حکومت کو اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات واپس لینی چاہئیں بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو فراہم کی جانے والی فری بجلی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ علاوہ ازیں بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنیوں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں جہاں تک پنجاب حکومت کی طرف سے بجلی صارفین کے لیے 14ارب فی یونٹ ریلیف کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سندھ’ KP اور بلوچستان بھی پنجاب کی طرف ترقیاتی کاموں سے پیسے بچا کر اپنے اپنے صوبوں کے عوام کیلئے بجلی بلوں میں ریلیف کا اعلان کریں وفاق کو بھی اس حوالے سے کچھ ایسی حکمت عملی اپنانا ہو گی کہ بجلی بلوں کے ستائے عوام کو مزید ریلیف حاصل ہو سکے اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں