55

بجلی سستی کرنے کے اقدامات (اداریہ)

انرجی ٹاسک فورس نے 5خود مختار پاور پروڈیوسرز (IPP,s) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد آٹھ بیگاس سے چلنے والے آئی پی پیز کے ساتھ بھی ترمیم شدہ معاہدے کئے ہیں جن میں وزیراعظم کے بیٹے کی ملکیت والے پروڈیوسرز بھی شامل ہیں ان معاہدوں کے نتیجہ میں مجموعی طور پر تخمینہ شدہ بچت 85سے 100 ارب روپے کے درمیان ہو گی، حالیہ دنوں میں ان آئی پی پیز کے نرخوں میں 22ارب روپے کی اضافی ترمیم کی گئی، جس سے 8ارب روپے کی کمی بھی عمل میں آئی، یہ کمی واضح طور پر توانائی کے شعبے میں بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، شوگر ملز جنہوں نے حکومت کے ساتھ نظرثانی شدہ پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) پر دستخط کئے ہیں ان میں حمزہ شوگر ملز چنیوٹ شوگر ملز جے ڈبلیو ڈی II جے ڈبلیو III رحیم یار خان ملز چناب شوگر ملز الموئز شوگر ملز تھال انڈسٹریز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق شوگر ملز کے مالکان جن میں وزیراعظم کے بیٹے بھی شامل ہیں کو نظرثانی شدہ معاہدوں پر مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا اس کے تحت بیگاس کی قیمت کو 5600 روپے فی ٹن سے کم کر کے 4500 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے معاہدے کے لیے بیگاس آئی پی پیز کے مالکان نے راولپنڈی کے ایک مقامی ہوٹل میں مسلسل تین روز قیام کیا تاکہ اعداد وشمار کو حتمی شکل دی جا سکے” حکومت کی صنعتوں اور کمرشل وگھریلو صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے کوششیں لائق تحسین ہیں انرجی ٹاسک فورس کے 5خود مختار پاور پروڈیوسرز آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور معاہدوں کے بعد مجموعی طور پر تخمینہ شدہ بچت 85 سے 100 ارب روپے تک ہو گی حکومت کی کوششوں سے آئی پی پیز کے نرخوں میں 22ارب روپے کی اضافی ترمیم سے 8ارب روپے کی کمی عمل میں آئی جو خوش آئند ہے یہ توانائی شعبے کی بہتری کی طرف واضح اشارہ ہے اس وقت مہنگی کے ہاتھوں ہر فرد پریشان ہے آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیاں کرنے کیلئے عوام کو مہنگی بجلی کی فروخت معمول بن چکی ہے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہر ماہ پر کمپنیوں میں لاس کا بہانہ بنا کر نیپرا کو بجلی کے یونٹ میں اضافہ کی درخواست دیتی رہی ہیں اس کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے اربوں روپے نکلوائے جا رہے ہیں۔ اشرافیہ کو بجلی کے ہزاروں یونٹ فری دیئے جا رہے ہیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کو بھی بجلی فری ہے اور کی صرف شدہ بجلی کے بل بھی عام آدمی دے رہا ہے جو زیادتی ہے بجلی مہنگی ہونے کے بعد ملک میں صدائے احتجاج بلند ہوئی تو عقدہ کھلا کہ بجلی پیدا کرنے والی (آئی پی پیز) کو بھاری ادائیگیاں کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت نے آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدوں پر نظرثانی کا عندیہ دیا حالیہ حکومتی کوششوں سے 5آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہو گئے ہیں اس کے ثمرات جلد عوام کو منتقل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے پنجاب حکومت کی طرف سے دو ماہ کیلئے 14روپے فی یونٹ بجلی سستی ملنے سے عوام کو ریلیف ملا تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی سستی کرنے کی حکومتی کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ عوام مہنگی بجلی سے نجات حاصل کر سکیں بجلی کے نرخوں میں کمی ہو گی تو انڈسٹری پھلے پھولے گی کمرشل ادارے ترقی کریں گے گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئی پی پیز سے کم معاوضے پر بجلی کی خریداری پر توجہ دے ساتھ ہی ہائیڈرو پاور کے منصوبے بلاتاخیر مکمل کئے جائیں تاکہ سستی بجلی کا حصول آسان بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں