58

بجلی صارفین کیلئے ایک اور ریلیف (اداریہ)

وفاقی حکومت نے جولائی 2025ء سے بجلی بلوں کے ذریعے صوبائی الیکٹریسٹی ڈیوٹی کی وصولی ختم کر دی، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کو الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے سے متعلق خظ لکھ کر وفاقی حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیا اویس لغاری نے کہا بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں بلوں میں متعدد چارجز اور ڈیوٹیوں سے صارفین الجھن کا شکار ہیں صوبے متبادل ذرائع سے ڈیوٹی وصول کرنے کے طریقے تجویز کریں انہوں نے کہا کہ بجلی کے مہنگے نرخ پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں اور اس پر مختلف محصولات کا اضافی بوجھ بلوں کو مزید پیچیدہ بناتا ہے جس سے صارفین کیلئے اپنے بجلی کے اخراجات کو سمجھنا اور سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے وفاقی وزیر نے اپنے خطوط میں وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں نجی پاور کمپنیوں سے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت’ سرکاری پاور پلانٹس کے منافع میں کمی اور دیگر اصلاحات شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت بجلی کے بلوں کو سادہ بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے تاکہ یہ صرف بجلی کے استعمال کی اصل لاگت کو ظاہر کریں اور انہیں مختلف قسم کی رقوم کی وصولی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اویس لغاری نے اپنے خط میں لکھا کہ ہم صارفین کے بلوں سے غیر متعلقہ چارجز کو ختم کرنے پر غورکر رہے ہیں اسی سلسلے پاور ڈویژن نے فیصلہ کیا ہے کہ جولائی 2025ء سے بجلی بلوں سے بجلی ڈیوٹی کی وصولی بند کر دی جائے گی انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے بل زیادہ شفاف اور سمجھنے میں آسان ہوں گے صارفین بجلی کی اصل قیمت ادا کریں گے اس سے قبل بجلی کے بلز میں شامل پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے اپنا میٹر’ اپنی ریڈنگ منصوبے کے اجراء سے اب صارف اپنی ریڈنگ خود دیکھ سکے گا صارفین کو 110ارب روپے اووربلنگ کی مد میں واپس کئے گئے اب میٹر ریڈر کا اختیار صارف کو دے دیا گیا ہے،، یہ سب کچھ اپنی جگہ درست مگر وزیراعظم اور وزیر توانائی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ روائتی طفل تسلیوں کے سوا کچھ اور نہیں بجلی چوری کی قیمت جب عام آدمی سے وصو کی جائے گی اور لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پانے والے افسران اور وزیروں مشیروں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی تو ظاہر ہے عوام میں بے چینی تو ہو گی ممکن ہے ”اپنا میٹر اپنی ریڈنگ” ایپ سے اووربلنگ کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن بجلی بلوں میں جو بیس قسم کے محصولات شامل ہیں ان کے حوالے سے حکومت نے کیا سوچا ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں شدید گرمی اور حبس کا راج ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عام گھر دو سو یونٹ میں گزارا کر سکے؟ اور اس بات کی کیا منطق ہے کہ اگر دو سو سے ایک بھی یونٹ زائد استعمال ہو تو آپ کو چار گنا بل ادا کرنا پڑے گا؟ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت کا عوام اور ان کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی بلوں کے ٹیکسوں میں مزید کمی کی جائے تاکہ صارفین کو بھاری بجلی بلوں سے نجات مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں