86

بجلی کی 6 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ (اداریہ)

وزیر توانائی اویس لغاری نے 6بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں آئیسکو’ گیپکو’ فیسکو’ دوسرے مرحلے میں لیسکو ‘ سیپکو’ میپکو کے علاوہ گڈو اور نندی پور پار پلانٹ بھی پرائیویٹائز کر رہے ہیں 36 آئی پی پیز سے مذاکرات کے ذریعے 3696 ارب روپے کی بچت ہوئی جو صارفین کیلئے ریلیف کا باعث بنے گی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ چینی پاور پلانٹ مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کی بات چیت کر رہے ہیں چینی پاور پلانٹ کے قرضے کی ری پروفائلنگ پر بات چیت کر رہے ہیں گردشی قرض میں 339 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کر کے 145 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں بلوچستان میں 55 ارب روپے سے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کر رہے ہیں کیپٹو انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کیلئے سروس معاہدے کر رہے ہیں بجلی کے شعبے میں سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوارڈی نیشن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ٹرانسمیشن لائنز کے نقصانات کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں ایک سے 2روپے کا اضافہ ہوتا ہے ان نقصانات کو کم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے 1.89 کروڑ صارفین جو 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں کیلئے بجلی کی قیمت 6 روپے 14 پیسے کمی کی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر ان کے نرخوں میں 56تک کمی کی گئی ہے وزیرتوانائی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 6سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا تمام بجلی میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم میں تبدیل کیا جا رہا ہے سی پیک کے تحت چائنز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں 10سالہ الیکٹرک پالیسی کے تحت بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے،، وزیر توانائی کی اویس لغاری نے نقصان میں جانے والی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبہ کے حوالے سے پریس کانفرنس میں اعلان کر کے عوام کو خوشخبری دی ہے کہ بہت جلد 3بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے بعد مزید تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ بجلی کے فی یونٹ میں مزید کمی کے لیے بھی غور کیا جا رہا ہے وفاقی وزیر نے جس مطمئن انداز میں شعبہ توانائی میں پائی جانے والی خرابیوں اور گردشی قرضہ کم کرنے کی بات کی ہے اس سے لگتا ہے کہ آئندہ برسوں میں واقعی بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی اﷲ کرے ایسا ہی ہو فی الحال تو عوام وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس اعلان پر خوش ہے جس میں عام صارفین پر انہوں نے بجلی کی فی یونٹ 7روپے 42پیسے جبکہ صنعتوں کیلئے 7روپے 69 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید اقدامات اٹھائے جانے سے 600 ارب روپے کی بجلی چوری کا خاتمہ ہو گا وزیراعظم کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کے اعلان سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا تاہم حکومت کو صرف اس بات پر ہی مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ صنعتی وتجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلئے اور بھی اقدامات اٹھانے چاہئیں ضروری ہو گا کہ ہر قسم کے طبقے کیلئے مفت یا رعایتی بجلی کی مراعات اور لائن لاسز صفر کی جائیں اور بلوں پر لاگو غیر متعلقہ ٹیکس ختم کیے جائین اس سے حکومتی عزم بھی پورا کرنے میں مدد ملے گی بلاشبہ شہباز حکومت اپنے وعدوں کے مطابق عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے میں کامیاب رہی ہے امید کی جا رہی ہے کہ حکومت معاشی استحکام کیلئے بھی کامیاب ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں