64

بجٹ میں سخت معاشی پالیسیوں کا عندیہ (اداریہ)

وفاقی حکومت کا آئندہ مالی بجٹ میں سخت معاشی پالیسیاں جاری رکھنے کا فیصلہ بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرا دی ہے دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ آئی ایم ایف کی مکمل مشاورت سے بجٹ تیار کر رہی ہے وفاقی حکومت نے بجٹ سرپلس سے متعلق صوبوں سے تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے آئندہ مالی سال پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے ایک فی صد رکھنے کا پلان ہے دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاری پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں،، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں آئندہ مالی سال کے ریونیو ہدف کے تعین اور اس کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسیشن کے امور پر بات چیت ہو رہی ہے ایک بڑے ریونیو کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے جن سیکٹر پر جی ایس ٹی لگ سکتا ہے اس میں ادویات کا سیکٹر شامل ہے جبکہ آئی ایم پٹرول پر بھی ٹیکس لگانے کا کہہ رہا ہے اس کے متبادل کے طور پر لیوی کی بھی تجویز موجود ہے پاکستان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ میکرواکنامک فریم شیئر کر دیا ہے ٹیکس اہداف میں 1300 ارب روپے کے اضافے کی تجویز ہے غذائی اجناس اور توانائی کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے” عوام ایک عرصے سے مہنگائی اور بے روزگاری کے حبس زدہ ماحول میں زندگی گزار رہے تھے عوام کی زندگی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے اجیرن ہو کر رہ گئی تھی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی گندم اور آٹے کے نرخ کم ہوئے دیگر اشیاء خوردونوش میں بھی کمی ہوئی جو خوش آئندہ ہے، لیکن ادویات کے نرخوں میں اضافے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جا رہا ہے بعض اوقات خوراک سے زیادہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ادویات کے نرخوں میں پہلے ہی ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے اگر مزید اضافہ کیا گیا تو لوگ زندگی بچانے والی ادویات سے بھی محروم رہ جائیں گے آئی ایم ایف کو 1300 ارب روپے کے اضافے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ٹیکس میں اتنا اضافہ ٹیکس گذاروں کو کون سی مراعات دے کر کیا گیا برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے کیلئے کون سی مراعات دیکر کیا جائے گا برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے کی امیدیں کس بنا پر رکھی جا رہی ہے،، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کون سی سہولت فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی ریمنسز میں اضافہ کریں گے برآمدات کا ہدف اتنی مہنگی انرجی کے باوجود حاصل کیا جائے گا بجٹ میں عوام ریلیف کی امید رکھتے ہیں جس طرح کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں سے عوام کی امیدیں خاک میں تبدیلی جا رہی ہیں حکومت میں ملک چلانا ہوتا ہے اس کیلئے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے عوام پر لادھا جا رہا ہے بہتر ہو گا کہ یہ بوجھ اشرافیہ پر ڈالا جائے غریبوں کو ریلیف فراہم کیا جائے اگر غریبوں کو بجٹ میں ریلیف نہ دیا گیا تو مہنگائی کے ستائے عوام سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں