بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا’ مریم نواز

لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے پیر کو آئندہ مالی سال2025-26ء کے لیے 5335 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشن میں 5 فیصد اضافے جبکہ مزدور کی کم سے کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔وزیراعلی مریم نواز بھی ایوان میں موجودر ہیں ۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر اور وزیر خزانہ پر پھینک دیں، اپوزیشن نے سپیکر ڈائس کا گھیرا کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا گزشتہ مالی سال کی طرح یہ بجٹ بھی ٹیکس فری ہے ، آئندہ مالی سال 2025-26کے لیے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 1240 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 47.2 فیصد زیادہ ہے اور اسے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ قراردیا جا رہا ہے ،غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کیلئے 171.7 ارب روپے رکھے گئے ،ٹیکس ریونیو کی مد میں وصولیوں کا ہدف 524.7 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو وصولیوں کی مد میں 303.4 ارب روپے مقرر کیا گیا ۔وفاق کی جانب سے پنجاب کا حصہ 4062.2 ارب روپے ملے گا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاری اخراجات پر 2706.5ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ کیپٹل اخراجات پر 590.23 ارب روپے ، ہدف شدہ سبسڈیز پر 72.27 ارب روپے خرچ ہوں گے ۔وزیر خزانہ نے کہا صوبائی محصولات کا تخمینہ 828.1 ،جاری اخراجات کا تخمینہ 2706.5 ارب روپے ہے ۔ آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب ریونیو اتھارٹی کی طرف سے وصولیوں کا ہدف 340 ارب رکھا گیا ہے ، تعلیم کے شعبہ کے لیے 811.8 ارب روپے ، صحت کے لئے مجموعی طور پر 630.5 ارب روپے ،لوکل گورنمنٹ کے لئے 411.1 ارب روپے ،تعمیرات کے لئے 335.5 ارب روپے ،تحفظ عامہ اور پولیس کے لئے 299.3 ارب روپے ،زراعت کے لئے 129.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔جاری خدمات کے شعبہ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا پی ایف سی کے لیے گزشتہ مالی سال 857.4 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جو بڑھا کر 934.2 ارب روپے کر دئیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں