بخشی خانہ میں قیدیوں کیلئے مبینہ طور پر بنیادی سہولتوں کا فقدان

جڑانوالہ (نامہ نگار) تاریخ پیشی پر آنیوا لے قیدیوں کیلئے بخشی خانہ میں مبینہ طور پر بنیادی سہولیات کا فقدان پائے جانے کا انکشاف ، مقدمہ قتل میں گرفتار قیدی نے اپنے وکیل کی وساطت سے چیف جسٹس آف لاہور سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا،تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر جڑانوالہ کے مقدمہ نمبر 670/24بجرم 302کے الزام میں سنٹرل جیل میں بند قیدی ناصر نے اپنے وکیل کی وساطت سے چیف جسٹس لاہور کو استدعا کی ہے کہ کیس کی سماعت کیلئے 14دن بعد سنٹرل جیل فیصل آباد سے سب ڈویژن کورٹ جڑانوالہ تاریخ پیشی پر متعلقہ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور قیدیوں کو شام کے وقت سنٹرل جیل لے جایا جاتا ہے جبکہ سرکار کی جانب سے کھانے پینے کا کوئی انتظام نہ ہے اہلخانہ کھانا اور کپڑے وغیرہ لیکر آتے ہیں سب ڈویژن جڑانوالہ انچارج حراست نے حولاتیوں کو کھانا پہچانا بند کر دیا ہے جسکے باعث حوالاتی بھوکے پیاسے رہتے ہیں جبکہ شوگر کے مرض کا شکار حوالاتیوں کا برا حال ہو جاتا ہے مزید استدعا کی گئی کہ سب ڈویژن جڑانوالہ میں بڑا وسیع بخشی خانہ بنا ہوا ہے سیشن کورٹ کے گیٹ پر پولیس ملازمین تعینات ہوتے ہیں جو ہر چیز چیک کرنے اور اہلخانہ کے شناختی کارڈز کا ریکارڈ چیک کرنے کے بعد اجازت دیتے ہیں قیدی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ حوالاتیوں کو اپنے اہلخانہ کی جانب سے کھانا دینے کی پابندی پر نظر ثانی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں