بد انتظامی،چشم پوشی ،فیصل آباد”شہر لاوارثاں ”بن گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی شہر فیصل آباد ان دنوں بدانتظامی کی وجہ سے ”شہر لاوارثاں” کا روپ دھار چکا ہے’ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی طرف سے مسلم لیگی ارکان اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو “NO LIFT” کی وجہ سے ان کی کسی بھی سرکاری ادارے میں شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایف ڈی اے’ پی ایچ اے’ واسا’ ایم سی ایف’ ایف ڈبلیو ایم سی’ مارکیٹ کمیٹی ودیگر اداروں میں لیگی کارکنوں کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا، اس وجہ سے کارکن بھی بددلی کا شکار ہیں، سرکاری ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کیلئے بنائی جانیوالی کمیٹیاں اور ان کے انچارج بھی تقریباً غیر فعال ہو چکے ہیں، صرف اور صرف انچارج مانیٹرنگ کمیٹی چوہدری عابد شیر علی ہی متحرک نظر آ رہے ہیں’ فیصل آباد میں کسی بھی سرکاری ادارے کی کارکردگی کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا’ جھال خانوآنہ (اولڈ پل)’ ناولٹی پل’ نشاط آباد پل خستہ حالی کا شکار ہیں اکثر وبیشتر سڑکوں کا پیچ ورک بھی نہیں کروایا جا سکا’ زیبرا کراسنگ’ سپیڈ بریکرز پر رنگ وروغن نہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فیصل آباد میں جو کام ہو رہا ہے وہ صرف اور صرف تجاوزات کے خلاف آپریشن ہے۔ باقی تمام سرکاری ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایک سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کا فیصل آباد کو خوبصورت بنانے اور پارکوں’ گرین بیلٹس میں کوئی کام نظر نہیں آ رہا، موسم بہار کے دوران بھی شہر بھر کے پارکوں میں ویرانیاں اور سرسبز پودوں اور خوشنما پھولوں کو لوگ ترس گئے ہیں۔ محکمہ واسا کے کام چور عملہ کی وجہ سے شہر کے اکثر علاقوں میں جگہ جگہ سیوریج کے گندے اور تعفن زدہ پانی نے ڈیرے جما رکھے ہیں۔ لوگوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے اور فراہمی نکاسی کا بھی خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے صاف پانی کی فراہمی ناپید ہو چکی ہے اور صاف پانی کی لائنوں میں گندے اور سیوریج ملے پانی کی شکایات عام ہیں۔ شہریوں کی طرف سے واسا کے خلاف شکایات کے انبار لگ چکے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے اشیاء خوردونوش کے ریٹ پر کسی بھی جگہ عملدرآمد نہ ہے۔ پھل وسبزی فروش منہ مانگے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی فوج ظفر موج چھوٹے دکانداروں’ ریڑھی’ چھابڑی والوں کیخلاف کارروائیاں کرتے ہوئے ان کو بھاری جرمانے کرنے پر مرکوز ہے۔ بڑے ذخیرہ اندوزوں اور بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس صرف اور صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایف ڈبلیو ایم سی کی کارکردگی سب پر عیاں ہے۔ شہر بھر میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا صفائی ستھرائی کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ شہر کے جھال خانوآنہ (اولڈ پل)’ ناولٹی پل’ نشاط آباد پل اور شہر کی اہم شاہراہیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ اندرون شہر گلی محلوں کی سڑکوں’ گلیوں کی خستہ حالی کی وجہ سے شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ شہر بھر میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ ڈاکوئوں اور چوروں کے گروہ شہر بھر میں جگہ جگہ لوٹ مار کرتے نظر آتے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جبکہ ٹریفک پولیس کا کام ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی بجائے اسکی توجہ صرف اور صرف چالان کرنے اور شہریوں کے لائسنس بنوانے پر مرکوز ہے۔ ٹریفک سگنلز خراب ہونے سے ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ٹریفک وارڈنز اپنے چالانوں کا ٹارگٹ پورا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ جسکے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم نظر آتا ہے۔ ایف ڈی اے’ میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سٹریٹ لائٹس بند ہیں’ کسی بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر پیچ ورک کا کام نہیں ہو رہا ہے۔ اگر کوئی سائل اپنی شکایات لیکر جاتا ہے تو وہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کا کہہ کر سائلین کو واپس گھروں کو بھجوا دیتے ہیں۔ جبکہ اعلیٰ افسران کی طرف سے لگائی جانے والی کھلی کچہریوں کی کارروائیاں کاغذاتی کارروائیوں تک محدود ہیں اور دور دراز کے علاقوں سے آنیوالے سائلین کام نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہو کر گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں فری ادویات کی فراہمی خواب بن کر رہ گئی۔ غریب اور مستحق افراد کا علاج معالجہ خواب بن کر رہ گیا۔ ادویات نہ ملنے پر غریب اور مستحق مریضوں کو بغیر علاج کے گھروں کو لوٹنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی’ ٹکٹ ہولڈرز کی کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی شنوائی نہیں ہے، اگر کوئی ارکان اسمبلی یا لیگی ٹکٹ ہولڈر بیوروکریسی کے پاس شکایت کرنے جاتا ہے تو اسکو بھی وزیراعلیٰ ہائوس یا سیکریٹریٹ جانے کا کہہ کر ٹرخایا جاتا ہے۔ سرکاری افسران کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک کا تیسرا بڑا صنعتی شہر ”لاوارث” ہو کر رہ گیا ہے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کروانے کیلئے کہاں جائیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے، وہ کس کے پاس اپنے مسائل حل کروانے کیلئے داد رسی کریں۔ فیصل آباد کے سرکاری اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی پیمانہ نہ ہے۔ شہریوں کے مسائل اور جائز کاموں کے حل کیلئے سرکاری افسران کو لگام ڈالی جائے تاکہ شہریوں کے مسائل حل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں