برآمدات بلند ترین سطح پر

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومتی اقدامات کے اثرات سامنے آنے لگے، ملکی برآمدات 7برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں’ دستاویزات کے مطابق جولائی سے اپریل تک برآمدات 27ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، گزشتہ ماہ برآمدات 2ارب 14کروڑ ڈالر کیساتھ سال بھر کی کم ترین سطح پر رہی تھیں، 32ارب ڈالر برآمدات کا ہدف پورا کرنے کیلئے ساڑھے 5ارب ڈالر کی برآمدات کرنا ہوں گی۔رواں مالی سال جولائی سے اپریل تک تجارتی خسارہ 21ارب 35کروڑ 10لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ برآمدات کم اور درآمدات اپریل میں زیادہ رہنے کے باعث تجارتی خسارہ 8.81فیصد بڑھ گیا، مارچ تک تجارتی خسارے میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4.50فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں درآمدات سال بھر کی ہائی سطح پر 5ارب 52کروڑ 29لاکھ ڈالر رہیں، رواں مالی سال جولائی سے اپریل تک درآمدات کا حجم 48 ارب 21 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز رہا، گزشتہ ماہ تجارتی خسارہ 3 ارب 38 کروڑ ڈالر کیساتھ سال کا سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق تجارتی خسارہ مارچ کی نسبت اپریل میں 55 فیصد سے زائد بڑھا، خدمات کے شعبے کی برآمدات جولائی سے مارچ تک 6 ارب 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوئیں، خدمات کے شعبے کی درآمدات 8 ارب 55 کروڑ 29 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوئی ہیں۔رواں مالی سال خدمات کے شعبے کا خسارہ 2 ارب 31 کروڑ 79 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوا جبکہ مارچ میں خدمات کے شعبے کی برآمدات 74 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوئیں، خدمات کے شعبے کی درآمدات 97 کروڑ ڈالر رہیں جس کا خسارہ 22 کروڑ 68 لاکھ ڈالر رہا، خدمات کے شعبے کی برآمدات فروری کی نسبت مارچ کے دوران 4.14 فیصد زیادہ ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں