برآمدات میں بہتری کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت

لاہور (بیوروچیف)وزیراعظم پاکستان برآمدات میں مسلسل کمی پر تشویش میں مبتلا ہیں اور انہوں نے برآمدات میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ کیا جائے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین احد امین ملک، شعیب اختر، عامر علی اور افتخار احمد بھی شریک تھے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں 36 سے 38 فیصد تک کمی ہو چکی ہے جو ایک انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پیداواری لاگت میں اضافہ، مہنگی توانائی اور پیچیدہ ٹیکس نظام برآمد کنندگان کے لیے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کاروباری برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران تاجروں سے مشاورت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے مختلف شعبوں کے لیے ورکنگ گروپس قائم کیے ہیں جن کی قیادت خود کاروباری نمائندے کر رہے ہیں تاکہ پالیسی سازی میں زمینی حقائق کو شامل کیا جا سکے۔اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ اگر برآمدات میں کمی کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو روپے کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روپے کی قدر میں مزید کمی سے مہنگائی بڑھے گی اور صنعتوں پر لاگت کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جولائی سے نومبر کے دوران پاکستان کی غذائی برآمدات 1.95 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 3.15 ارب ڈالر تھیں، یعنی 38 فیصد کمی واقع ہوئی جو نہایت تشویشناک ہے۔فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ زرعی برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں فی ایکڑ کم پیداوار، تحقیق و ترقی میں کم سرمایہ کاری، زرعی اجناس کی اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور غیر مستقل پالیسیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی ہر سال تقریباً 47 لاکھ افراد بڑھ رہی ہے جبکہ زرعی پیداوار اور خوراک کی فراہمی اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی، جو مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ چاول کی برآمدات 1.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 769 ملین ڈالر رہ گئیں، سبزیوں کی برآمدات 110 ملین ڈالر سے کم ہو کر 66 ملین ڈالر ہو گئیں جبکہ تیل دار بیجوں اور گری دار میووں کی برآمدات 262 ملین ڈالر سے گھٹ کر 92 ملین ڈالر رہ گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں