برآمدات میں کمی معیشت کیلئے نقصان دہ (اداریہ)

پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں 7 ماہ کے دوران 1.34 ارب ڈالر کی ریکارڈ کی گئی جولائی تا جنوری ملکی برآمدات 19.58 ارب ڈالر سے گر کر 18.19 ارب ڈالر رہ گئیں جنوری 2026ء میں ملکی برآمدات 35فیصد سے 3ارب ڈالر سے زیادہ رہیں جنوری میں ٹیکسٹائل 3.14 فیصد مینوفیکچرنگ آلات کی ایکسپورٹ میں 12.73 فیصد اضافہ ہوا 7ماہ میں غذائی اجناس کی ایکسپورٹس میں 35 فیصد یا 1.62 ارب ڈالر کی کمی اس دوران فوڈ ایکسپورٹس 4.61 ارب سے کم ہو کر 2.98 ارب ڈالر رہ گئیں چاول’ آئل سیڈز’ سبزیاں’ گڑ’ مصالحے’ تمباکو’ کاٹن مصنوعات کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم’ سرجیکل’ طبی آلات’ لیدر’ کینوس شوز کی برآمدات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی’ قالین’ دریاں’ گلوز’ گڑ سے بنی مصنوعات کی ایکسپورٹس بھی گر گئیں’ کیمیکلز ادویات’ کٹلری’ پلاسٹک’ میٹریل ٹرانسپورٹ سامان شامل ہیں، جیمز’ جیولری’ ہینڈی کرافٹس مصنوعات کی ایکسپورٹس بھی گر گئیں دستاویزات کے مطابق ٹیکسٹائل برآمدات میں 1.25 فی صد یا 13کروڑ 45لاکھ ڈالر کا معمولی اضافہ ہوا 7 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 10.90ارب ڈالر رہا مینوفیکچرنگ گروپ کی برآمدات میں 5.17 فیصد کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ آلات کی برآمدات کا حجم 2.38 ارب ڈالر رہا آٹو پارٹس’ سیمنٹ’ انجینئرنگ گڈز الیکٹرک فین کی برآمدات میں اضافہ ہوا میڈان پاکستان فٹبال سمیت سپورٹس کے سامان کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کی اگیا خام کپاس سوتی دھاگے’ ریڈی میڈ گارمنٹس’ ٹینٹ کی ایکسپورٹ بڑھ گئی’ گندم’ مچھلی اور پھلوں کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا الیکٹرک مشینری’ ربڑ ٹائرز ٹیوب فرنیچر ایکسپورٹس میں بھی اضافہ ہوا لیدر گارمنٹس جوتے اور کھاد کی برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا،” پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں 7ماہ کے دوران 1.34 ارب ڈالر کی کمی لمحہ فکریہ اور معیشت کیلئے دھچکے سے کم نہیں برآمدات میں کمی ملکی معیشت کیلئے فائدہ مند نہیں کیونکہ ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا تو زرمبادلہ حاصل ہو گا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے معیشت مستحکم ہو گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا عوام خوشحال ہو گی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت برآمدات بڑھانے پر توجہ دینے کی ہے اس حوالے سے ٹیکسٹائل سیکٹر’ لیدر’ کیمیکلز’ کٹلری’ سپورتس’ چاول’ سبزیاں اور پھلوں کی برآمدات بڑھانی ناگزیر ہیں اور مصنوعات برآمد کرنے والے برآمدکنندگان’ پیداواری یونٹس کو بجلی گیس سستی دی جائے ان کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیداوار پر توجہ دیں اور برآمد کو بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اگر حکومت نے انڈسٹری مالکان اور برآمدکنندگان کیلئے مراعات کا اعلان نہ کیا تو برآمدات بڑھانے کے اہداف حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں