برطانیہ کا ویزا سسٹم میں بڑی تبدیلی کا اعلان

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایسے افراد کی واپسی سے انکار یا تاخیر کریں گے جو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، ان کے لیے ویزوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے۔ برطانیہ کی نئی وزیرداخلہ شبانہ محمود نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی بڑی ملاقات میں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ (جو کہ مجموعی طور پر فائیو آئیز کہلاتے ہیں) کے وزرائے داخلہ سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد ان افراد کی واپسی کو یقینی بنانا ہے جن کے ان ممالک میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔اس معاہدے کے تحت تمام ممالک پر واضح ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کو واپس لیں جو غیر قانونی طور پر کسی دوسرے ملک میں مقیم ہیں، تاکہ واپسی کے عمل میں تیزی لائی جا سکے اور عالمی سطح پر اس حوالے سے اتفاق رائے قائم ہو۔ مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جو ممالک واپسی کے عمل میں تعاون نہیں کرتے، دستاویزی عمل میں تاخیر کرتے ہیں یا تعاون میں کم دلچسپی دکھاتے ہیں، ان کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ایسے ممالک کے خلاف ویزا پالیسی میں تبدیلی، ویزوں کی تعداد میں کمی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ امیگریشن رسک کے مطابق ویزہ اقدامات میں توازن قائم کیا جا سکے۔یہ مشترکہ اعلامیہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے اور برطانوی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر قانونی افراد کی واپسی کے عمل کو مثر اور مضبوط بنایا جائے گا۔ برطانیہ کی وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ امیگریشن نظام کے غلط استعمال سے عوامی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے اور ہم اس خطرے کا مقابلہ اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ان تمام افراد کے لیے واضح پیغام ہے جو ہماری سرحدی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اگر آپ کے پاس برطانیہ میں رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، تو ہم آپ کو ملک بدر کریں گے، اور اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتا ہے، تو ہم اس کے خلاف عملی اقدامات کریں گے۔فائیو آئیز ممالک نے ایک نئے عزم کے تحت وسائل کو یکجا کرنے اور مشترکہ آپریشنل فریم ورک کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کو انسانی اسمگلنگ کے منظم جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ آنے والے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے تقریبا 80 فیصد مہاجرین نے اپنے سفر کے دوران سوشل میڈیا کا استعمال کیا، جس میں غیر قانونی سفر کی تشہیر اور اسمگلنگ گینگز سے رابطہ شامل تھا۔یہ مہم برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی قیادت میں جاری ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کی نشاندہی، مداخلت اور حوصلہ شکنی کرنا ہے جو سوشل میڈیا پر انسانی اسمگلنگ کی تشہیر کرتے ہیں یا منظم نیٹ ورکس کے ایجنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ دسمبر 2021 سے اب تک این سی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز سے 23,000 سے زائد ایسے پوسٹس، پیجز یا اکانٹس ہٹا دیے ہیں جو منظم امیگریشن جرائم کو فروغ دے رہے تھے۔ صرف گزشتہ ایک سال میں 8,000 سے زائد مواد کو ہٹایا گیا جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔حکومت کے مطابق یہ معاہدے اس کی پہلی سال کی کامیابیوں کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جن میں ان افراد کی ملک بدری شامل ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا کوئی قانونی حق نہیں تھا۔ اب تک 35,000 سے زائد افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ حکومت نے پہلے ملک بدر، بعد میں اپیل کی اسکیم کو تقریبا تین گنا بڑھا کر 23 ممالک تک پھیلایا، موجودہ واپسی کے معاہدوں کو مزید مضبوط کیا اور فرانس اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ تاریخی معاہدوں سمیت نئے واپسی کے طریقہ کار طے کیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں