برطانیہ کی ویزا پابندی کی دھمکی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) انگلینڈ کی پاکستانی نژاد وزیر داخلہ شبانہ محمود نے وزیر بنتے ہی اپنی ہی کمیونٹی کے خلاف جانے والے سخت اقدامات کا اعلان کر کے انگلینڈ میں مقیم پاکستانی نژاد اور امیگرنٹ کمپونٹی کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ انگلینڈ کی نیوز آٹ لیٹس نے رپورٹ کیا ہے کہ نئی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے سیاسی پناہ کے ناکام امیدواروں کو واپس لینے سے انکار کرنے والے ممالک کے لیے ویزا معطل کرنے کے اعلان کے بعد تنازعہ کو جنم دیا ہے۔اگر شبانہ محمود نے ویزا پابندیاں لگائین تو ان کا اطلاق پاکستان جیسے ملکوں پر ہوگا، جو باقاعدگی سے طلبا اور ہنرمند کارکنوں کو برطانیہ بھیجتے ہیں۔ناقدین نے شبانہ محمود کی اس پالیسی سے برطانیہ کو نقصان پہنچانے کا انتباہ دیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غیر منصفانہ طور پر ان ممالک کو نشانہ بناتا ہے جو ڈاکٹروں، نرسوں اور طلبا کو بھیج کر انگلینڈ کو اچھی افرادی قوت فراہم کرتے ہیں۔مبصرین نے نوٹ کیا ہیں کہ لیبر حکومت کا یہ فیصلہ چھوٹے، امداد پر انحصار کرنے والے ممالک پر دبا ڈال سکتا ہے اور بالآخر انگلینڈ کو کچھ مثبت فائدوں سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔دی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا کہ جنوبی ایشیا اور افریقہ سے آنے والے تارکین وطن پر پابندیاں قومی مفادات کو مضبوط کرنے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔اس پالیسی کی ستم ظریفی کو عوام نے بھی نوٹ کیا ہے جو دراصل شبانہ کی اپنی ہی کمیونٹی کے رکن ہیں_ یعنی پاکستانی، جنوبی ایشیائی نژاد برٹشر اور ان ممالک کے امیگرنٹ؛ برطانوی شہریوں نے ایک مسلمان سیاستدان اورخود ایک امیگرنٹ فیملی کی بیٹی کی جانب سے جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے خلاف اقدامات کے نفاذ کی ستم ظریفی پر بات کی ہے۔ایک برطانوی-پاکستانی تجزیہ کار نے زور دیا، “ویزوں کی کٹوتی” سے ہماری کمیونٹی کو نقصان پہنچے گا اور نیشنل ہیلتھ سسٹم NHS بھی کمزور ہو جائے گا، جس کا انحصار پاکستانی ڈاکٹروں کی انگلینڈ آمد پر ہے۔تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ یہ پابندیاں ممکنہ طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے تارکین وطن کے ساتھ انگلینڈ کی ریاست اور سوسائٹی کے بہتر تعلقات کے ساتھ ناکام ہو جائیں گی۔ شبانہ محمود کی مجوزہ پالیسی نافذ ہوئی تو پاکستان کو واقعی نقصن ہو گا کیونکہ ہر سال ہزاروں سٹوڈنٹ اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد پاکستان سے برطانیہ ہجرت کرتے ہیں۔برطانیہ سے پاکستانی امیگرنتس کی بھیجی ہوئی رقوم پاکستان کی کمزور معیشت کو مستحکم کرنے اور ملک بھر میں خاندانوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔کسی بھی ویزا کی معطلی ان لائف لائنوں کو براہ راست کم کر سکتی ہے، معاشی جدوجہد کو مزید خراب کر سکتی ہے اور بے شمار گھرانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔برطانیہ میں ناقدین اس اقدام کو “خود ساختہ سزا” قرار دیتے ہیں جو صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم جیسے اہم شعبوں کو معذور کر سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کو پہلے ہی عملے کی کمی کا سامنا ہے، اور تارکین وطن کارکنوں کو کم کرنے سے بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔تعلیمی ادارے بھی اس پالیسی کے نفاذ سے مالی بدحالی کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی طلبا، خاص طور پر پاکستان اور بھارت سے آنے والے سٹوڈنٹ، برٹش تعلیمی اداروں کی ٹیوشن کی آمدنی میں اہم حصہ ڈالتے ہیں۔اس طرح، تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ پالیسی اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہوئے برطانیہ کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں