2

بروقت تشخیص کا فقدان،بلوچستان میں مویشی مہلک بیماریوں سے مرنے لگے

کوئٹہ(بیورو چیف)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مویشیوں میں پھیلنے والی خطرناک بیماریوں نے ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، مستونگ، خضدار، ژوب، لورالائی، چاغی اور کیچ سمیت کئی علاقوں میں گائے ، بھیڑ، بکریاں اور اونٹ تیزی سے ہلاک ہو رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں جانور معذور ہو کر دودھ دینے، چرنے یا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے دیہی بلوچستان میں جہاں غربت پہلے ہی ایک تلخ حقیقت ہے، مویشیوں کی بیماری نے لوگوں کے واحد ذریعہ معاش کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے بلوچستان کی معیشت کا بڑا حصہ لائیو اسٹاک پر منحصر ہے صوبے کے لاکھوں غریب خاندانوں کیلئے جانور صرف آمد نی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ خوراک، علاج اور بچوں کی تعلیم کا سہارا بھی ہیں جب ایک غریب کسان یا چرواہے کے جانور مر جاتے ہیں یا بیماری کے باعث ناکارہ ہو جاتے ہیں تو اس کے لیے متبادل روزگار کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں ہوتا۔یہاں جاری ہونے والے ا یک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی محمدعبدالقادر نے کہا کہ منہ کھر، لمپی اسکن، طاعون نما امراض اور دیگر متعدی بیماریا ں تیزی سے پھیل رہی ہیں، مگر ویکسین کی قلت، ویٹرنری عملے کی کمی اور بروقت تشخیص کا فقدان صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے دور دراز علاقوں میں سرکاری ویٹرنری مراکز یا تو غیر فعال ہیں یا بنیادی سہولیات سے محروم، جس کے باعث غریب لوگ مہنگے نجی علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں