2

بسنت ثقافتی تہوار نہیں بلکہ خونی کھیل بن چکا ہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) ایم ایس ایف کے رہنما کراسان خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بسنت کوئی ثقافتی تہوار نہیں بلکہ ایک خونی کھیل بن چکا ہے جس میں ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، اس کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے 6 تا 8 فروری بسنت منانے پر اصرار نہایت افسوسناک اور عوام کی جانوں سے کھلواڑ کے مترادف ہے، ڈور سے گلے کٹنے، چھتوں سے گرنے، موٹر سائیکل سواروں کے شدید زخمی ہونے اور بچوں کے مستقل معذور ہو جانے کے واقعات ہر سال بسنت کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔اس کے باوجود حکومت آنکھیں بند کر کے اس خونی تہوار کو فروغ دینا چاہتی ہے،جو سراسر غیر ذمہ دارانہ طرزعمل ہے، انھو ں مطالبہ کیا کہ بسنت پر مکمل اور موثر پابندی کو یقینی بنایا جائے، ڈور بنانے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں