بسنت کی اجازت کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

لاہور (بیوروچیف) لاہور میں بسنت کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے 6، 7اور 8فروری کو بسنت منانے کی مشروط اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ پچھلے چند دنوں میں پتنگ کی ڈور پھنسنے کے واقعات میں ایک بچی اور نوجوان شدید زخمی ہو چکے ہیں، اور ماضی میں بھی پتنگ بازی کے واقعات کی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت ڈپٹی کمشنر کو جاری نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دے اور مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک نوٹیفکیشن معطل کرے۔درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ موقف اختیار کیا گیا کہ دو روز قبل بھی ڈور سے 2سالہ بچی شدید زخمی ہو گئی تھی، جس سے بسنت کے دوران خطرات کا اندیشہ واضح ہے۔واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے لاہوریوں کو بڑی سہولت دیتے ہوئے بسنت کے سلسلے میں 6، 7اور 8فروری کو لاہور میں فری بسیں اور رکشے چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ لاہور میں 3روز کیلئے بسیں اور رکشے فری چلائے جائیں گے تاکہ لوگ کم سے کم موٹر سائیکل استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ 30دسمبر یعنی آج سے ڈوراور پتنگوں سے متعلق مینوفیکچرنگ کی اجازت دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں