بس یادیں رہ جاتی ہیں۔۔۔۔

بعض انسانوں کے ساتھ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود بھی تعلق واسطہ بہت گہرا ہوتا ہے، خون کے رشتوں کی سچائی اور تقدس کا ہر خاص وعام معترف ہے، خون کا رشتہ ہو یا کوئی اور رشتہ، بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتے، ہر رشتے کی طرح دوستی ایک انمول رشتہ ہے، یہ خوبصورت رشتہ ہونے کے ساتھ ساتھ سچا رشتہ بھی ہے اور یہ ایسا رشتہ ہے جس میں ہر انسان اپنے دل کی بات بغیر ہچکچائے کر دیتا ہے، دوست سے دل کی بات کر کے انسان کا دل ہلکا ہو جاتا ہے، زندگی گزارنے کیلئے اچھے دوست بہترین ذریعہ ہیں، ملک احسان اﷲ اعوان میرے وہ دوست ہیں جو زندگی کے ہر موڑ پر اپنے دوستوں کے کام آئے اور حق دوستی اس طرح نبھایا کہ دوستی کے حسین رشتے پر لوگ فخر کرتے نظر آئے، 2012ء میں جون کے آخری ہفتے کے دوران میں اپنے دوستوں ملک احسان اﷲ اعوان’ نوید امجد اور عمران جٹ کے ہمراہ شوگراں گیا، یہ ٹور یادگار بن گیا، ہم گاہے بگاہے تفریحی مقامات پر جاتے رہے اور قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھ کر جو مسرت حاصل ہوئی وہ ہمارا سرمایہ حیات ہے، ملک احسان اﷲ اعوان کو میری زندگی میں بڑی اہمیت حاصل رہی، ہم ہر ہفتے ایک دوسرے سے ملتے تھے، کبھی میں لاہور چلا جاتا اور کبھی وہ فیصل آباد میرے پاس آ جاتے، ہماری دوستی ایک مثال بنی رہی اور وہ زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ملنے والوں سے اپنا تعلق نبھاتے رہے، ملک احسان اﷲ اعوان 17جولائی 2012ء کو اپنے کسی تعلق دار کی صلح کروانے کیلئے گئے، میمو ہسپتال لاہور میں ان کے ماموں جان داخل تھے، انہوں نے وہاں زیرعلاج اپنے ماموں جان کی عیادت کی اور جب میو ہسپتال لاہور سے نکلے تو نامعلوم ملزمان نے ان پر قاتلانہ حملہ کر دیا، ان کے ساتھ جو شخص بیٹھا تھا اسے نصف درجن سے زائد گولیاں لگیں جو بچ گیا، ملک احسان اﷲ اعوان کو صرف ایک گولی دل کے قریب لگی’ وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے، میرے اس عظیم دوست کو شہید ہوئے تیرہ برس بیت چکے ہیں مگر ان کی باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں، بلاشبہ! دوستی عظیم رشتہ ہے، دوست ہمیں قدرت کی طرف سے
تحفے میں ملتے ہیں، جو بغیر کسی غرض اور فائدے کے ساری زندگی ہماری خوشی اور دکھ میں ہمارے ساتھ چلتے ہیں، زندگی میں ہر چیز کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہوتی ہے، انسانی زندگی میں رشتوں کے جھرمٹ میں دوستی انمول رشتہ ہے! میرا دوستی کا حلقہ احباب محدود ہے مگر الحمدﷲ! میں جس کو دوست بناتا ہوں تو پھر اس سے دوستی نبھاتا ہوں، ملک احسان سے بھی میرا دوستی کا رشتہ وہ مثالی رشتہ ہے جسے بھلایا نہ جا سکے گا، آج ان کی تیرہویں برسی پر ان سے وابستہ یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہیں، دوستی ایک انمول رشتہ ہے جو اپنے اچھے اخلاق سے کبھی بھی کسی کے ساتھ بھی بن سکتا ہے، دوستی کرنا آسان ہے لیکن دوستی نبھانا ذرا مشکل
ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ جس کسی کو بھی دوست بنائے اسے ہر موقع پر یاد رکھے، اس کی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھے اور ان کی غمی کے موقع پر اس کی طرح غمگین ہوں اور ہر موقع پر اس کے ساتھ ہم قدم چل کر اپنا حق دوستی نبھائے، اس دنیا میں حسن اخلاق کی دولت بھی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ جسے مل جائے اسے اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کرتے ہی دیکھا گیا ہے، ملک احسان اﷲ اعوان ایسی شخصیت اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے کہ ان کے ملنے والوں سے کوئی بھی ابھی تک انہیں بھول نہیں سکا، انسانوں کی غالب اکثریت ایسے شخص کو اچھا گردانتی اور جانتی ہے جس کی اخلاقی قدریں بلند ہوں، اخلاقی اقدار کے حوالے سے دنیا میں مختلف طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں اور ان تصورات کی وجہ سے صاحب اخلاق شخصیت کے مختلف اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ دین اسلام کا تصور اخلاق بہت بلند ہے، جہاں وہ دوسرے انسانوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تلقین وترغیب دیتا ہے، وہیں اس کے ذاتی کردار کی تطہیر پر بھی بھرپور انداز میں توجہ دیتا ہے، کتاب وسنت کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک بااخلاق شخص جہاں گفتگو اور معاملات میں بہتر رویوں کا اظہار کرتا ہے وہیں وہ پاکدامنی پر بھی مکمل توجہ مرکوز رکھتے ہوئے جھوٹ اور بدعنوانیوں سے دور رہتا ہے، ملک احسان اﷲ اعوان کو اﷲ تعالیٰ نے جرأت وبہادری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی دولت سے بھی مالامال کیا تھا، ان کے اس دارفانی سے کوچ کر جانے کے بعد ہمارا حلقہ دوستاں تنکوں کی طرح بکھر گیا لیکن اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم تمام اب بھی ایک دوسرے کا مکمل خیال رکھتے ہیں اور ہر موقع پر اپنا حق دوستی ادا کر کے جو خوشی محسوس کرتے ہیں اسے قلمبند نہیں کیا جا سکتا، یوں تو کسی بھی زمانے میں بھی دوستوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں رہا، لیکن موجودہ دور میں جب افراتفری’ انتشار’ خلفشار’ باہمی تنازعات کے باعث خونی رشتوں کی قدریں کم ہو رہی ہیں، کہیں دولت تو کہیں شہرت رشتوں کا معیار بنتے جا رہے ہیں، ان گھمبیر حالات میں اگر کسی مخلص دوست کی رفاقت میسر ہو تو کٹھن سے کٹھن راستہ بھی آسان معلوم ہوتا ہے، دوستی زندگی کے مایوس کن لمحوں میں جینے کی امید دیتی ہے، وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنہیں زندگی میں مخلص دوست ملیں، اﷲ تعالیٰ نے ملک احسان اﷲ اعوان کو خدمت خلق کا جذبہ بھی عطا فرمایا تھا اور انہوں نے سیاست کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا، وہ مسلم لیگ (ن) کے دیوانے تھے اور اپنے قائدین سے والہانہ محبت کرتے تھے، وہ اب ہم میں نہیں رہے، اچھے’ سچے اور مخلص دوست وہ قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جنہیں ان کے اس دارفانی سے کوچ کر جانے کے باوجود کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا، ملک احسان اﷲ اعوان کی یادیں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں اور وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں