بلدیاتی الیکشن کیلئے فیصل آباد میں حد بندیاں مکمل،5ٹاؤنز،3میونسپل کارپوریشنز ،5تحصیل کونسلز قائم

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر ) آئندہ بلدیاتی الیکشن کیلئے فیصل آباد میں حد بندیا ں کر لی گئیں ،فہرستیں آج آویزاں کی جا ئینگی ،فیصل آباد شہر میں5ٹاؤن بنا دئیے گئے ،شہر میں5مئیر 10 ڈپٹی میئر ہونگے ،360یونین کونسلز بنائی جا ئیں گی ،جڑانوالہ ،سمندری ،تاندلیانوالہ میں میونسپل کارپوریشن بنیں گی ،ڈجکوٹ ،ماموں کانجن ،چک جھمرہ ،دھنولہ ،سدھارمیں تحصیل کونسل قائم کی جائینگی۔ تفصیلا ت کے مطابق بلدیاتی الیکشن کیلئے حد بندیا ں کر لی گئیںفیصل آباد میں 5 ٹائون بنائے گئے ہیں جن میںمدینہ ٹائون’ جناح ٹائون’ اقبال ٹائون’ لائلپور ٹائون اور سمن آبادٹاؤن شامل ہیں۔ یہ پانچوں ٹائون شہری علاقے میں موجود ہیں جو تقریباً 37، 38لاکھ آبادی بنتی ہے۔ 7لاکھ آبادی پر کارپوریشن بنائی گئی ہے جہاں پر ٹائون کارپوریشن ہو گی،ہر ٹائون کارپوریشن میں ایک میئر ہو گا اور اس کے ساتھ دو ڈپٹی میئرز ہونگے ،فیصل آباد سٹی ایریا میں 5 میئرز اور 10 ڈپٹی میئرز ہوں گے ،تحصیل سمندری کی شہری آبادی کیلئے میونسپل کارپوریشن، دیہی ایریا میں تحصیل کونسل بنائی گئی ہے۔ تاندلیانوالہ کا شہری علاقہ جہاں پر 2 لاکھ سے زائد آبادی ہے وہاں پر میونسپل کارپوریشن ہو گی، ماموں کانجن کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا جا ئیگاجبکہ تاندلیانوالہ کا جو دیہی علاقہ ہے وہ تحصیل کونسل بنائی جا ئیگی۔ چک جھمرہ میں میونسپل کمیٹی بنائی جائیگی کیونکہ اس کی آبادی دو لاکھ سے کم ہے اور باقی علاقہ تحصیل کونسل میں شامل کیا جائے گا۔جڑانوالہ میں میونسپل کارپوریشن بنے گی۔ میئر بھی ہو گا اور 2ڈپٹی میئرز بھی ہونگے اور باقی دیہی علاقہ تحصیل کونسل میں شامل کیا جائے گا جبکہ جڑانوالہ میں مکوآنہ میونسپل کمیٹی ہو گا۔ میونسپل کمیٹی کھرڑیانوالہ بھی بنایا جائے گا، تحصیل صدر کی دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اس کے اردگرد کے جو علاقے ہیں وہ کچھ تو شہر میں شامل ہونگے اور باقی جیسے دھنولہ، سدھار’ ڈجکوٹ’ جیسے کڑی ولا ہے تو یہ ممکنہ طور پر میونسپل کمیٹیاں بنائی جائینگی کیونکہ اس کی شرط یہ ہے کہ 25 ہزار سے 2 لاکھ کے درمیان آبادی ہو اور چاروں علاقوں کی آبادی 25 ہزار سے زائد ہے یہ ابتدائی فارمولا ہے اس کے بعد حلقہ بندیوں کی جائینگے ،حالیہ مردم شماری کے مطابق فیصل آباد کی آبادی 90لاکھ ہے۔ 25لاکھ پر حلقہ بندی کی جا رہی ہے فیصل آباد میں 360 یونین کونسلز بنیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق کم ازکم 4ہزار سے زائد لوگ اس پورے سیٹ اپ کا حصہ ہونگے۔ 4ہزار 160 کے قریب بلدیاتی نمائندگان صرف فیصل آباد میں ہی موجود ہونگے۔پہلا مرحلہ میں ہر یونین کونسل جہاں پر برابری کی سطح کونسلر کے امیدوار ہونگے جو ٹاپ 9لوگ ہونگے ان کو کونسلر ڈکلیئر کیا جائے گا چاہے یوسی میں 50 لوگ الیکشن لڑیں جس کو زیادہ ووٹ پڑینگے وہ کونسلر بن جائے گا یہ ہو گا اس کا پہلا مرحلہ۔ دوسرے مرحلے میں یہ تمام لوگ مل کر اپنی اپنی جو ریزرو سیٹ ہے جیسے یوتھ کونسلر، اقلیتی کونسلر، خواتین کونسلر، شہر میں لیبر، دیہات میں کسان کونسلرہو گا یہ سارے شامل کر کے 13 لوگوں پر مشتمل ایک یونٹ بنے گا وہ پھر اپنا چیئرمین’ اور وائس چیئرمین کا چنائو کریگا جو یونین کونسل ہو گی وہ چیئرپرسن ہو گا، شہری علاقوں میں میئرز’ ڈپٹی میئرز ہونگے ، دیہی علاقوں میں تحصیل کونسل کاچیئرپرسن ہو گا۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ عام ووٹرز راز داری کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے پھر اس کے بعد کہیں پر بھی راز داری بیلٹ نہیں ہو گا بلکہ شو آف ہینڈ کا طریقہ کار استعمال کیا جائے گا جب چیئرمین’ وائس چیئرمین بنایا جائے گا وہ شو آف ہینڈ کے ذریعے بنائے جائیں گے۔ ایک سے زیادہ امیدوار سامنے آ نے پر جس کے پاس زیادہ ووٹ ہونگے وہ چیئرمین منتخب ہو جائیگا تو وہ چیئرپرسن اُس کے جو اوپر تحصیل کونسل بنتی ہے، کمیٹی بنتی ہے، ٹائون کارپوریشن بنتی ہے وہ ساتھ میں اُس کا بھی ممبر ہو گا اور پھر وہ لوگ مل کر ہائوس گروپ بنائینگے جیسے اس میں ریزرو سیٹ ہے وہ بھی مکمل کرینگے، پھر اس کے بعد ایک یونٹ بنے گا اور دوبارہ میئر’ ڈپٹی میئر کے انتخابات ہونگے جو شو آف ہینڈ کے ذریعے ہونگے اس سے پہلے جو انتخابات ہوتے رہے ہیں، وہ رازداری بیلٹ کے ذریعے ہوئے تھے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جو میئر کو ووٹ ڈالے گئے تھے جو رازداری بیلٹ تھے، تاہم اب یہ سلسلہ نکالا گیا ہے کہ اب جو رازداری بیلٹ کی بجائے شو آف ہینڈ ہو گا اور کوئی بھی بندہ جو میئر کا الیکشن لڑنا چاہتا ہے، چیئرمین کا الیکشن لڑنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہائوس کا ممبر ہو، تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو ریزرو سیٹ والا ہو گا وہ بھی میئر یا ڈپٹی میئر کا چیئرپرسن ہو گا وہ الیکشن لڑ سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں