بلوچستان میں دل، ذیابیطس کے امراض بڑھنے لگے

کوئٹہ(نامہ نگار)بلوچستان میں دل کے امراض اور ذیابیطس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح نے صحت کے شعبے میں ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ غیر سرکاری ادارے سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز (سی پی ڈی آئی) نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال *2026–27 کے سالانہ صحت بجٹ میں دل کے امراض اور ذیابیطس (شوگر)کے لیے ایک مستقل اور مخصوص بجٹ مختص کیا جائے۔ ملک میں صحت، تعلیم، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اہم شعبوں پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) مجموعی اموات کے تقریباً 58 فیصد کا سبب بن رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ رجحان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ صوبے کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں تشخیص و اسکریننگ سہولیات کی کمی اور مہنگے علاج کے باعث شدید خلا موجود ہے۔ ان دونوں بیماریوں کے لیے مستقل بجٹ مختص نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کی تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی کا ایک بڑا حصہ بروقت اور زندگی بچانے والی ابتدائی طبی سہولیات سے محروم رہا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ دل کے امراض بدستور بلوچستان میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں اور اس کا بوجھ صحت کے مجموعی بجٹ کا 17 فیصد سے زائد ہے۔ اگرچہ کوئٹہ میں شیخ محمد بن زاید النہیان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے امراضِ قلب کے علاج میں نمایاں سہولت فراہم کی ہے تاہم واشک، آواران اور موسیٰ خیل جیسے اضلاع کے مریض آج بھی طویل فاصلوں کی وجہ سے علاج تک رسائی نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں یعنی”فاصلے کی وجہ سے موت” کا شکار ہورہے ہیں۔دوسری جانب ذیابیطس کی بیماری بھی صوبے میں خطرناک حد تک پھیل چکی ہے جو اکثر اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب مریض سنگین پیچیدگیوں جیسے گردوں کی ناکامی یا اعضا کے کٹنے، کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ مالی بوجھ غریب ترین خاندانوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔سی پی ڈی آئی نے تجویز دی ہے کہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میں دل کے امراض و ذیابیطس کے علاج کے لیے مخصوص فنڈ مختص اور خصوصی منصوبہ شروع کیا جائے۔اس منصوبے کے تحت بنیادی صحت مراکز میں انسولین اور بلڈ پریشر کی ادویات کی سبسڈی پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ صوبہ بھر میں ”اپنے نمبرز جانیں” کے عنوان سے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی اسکریننگ مہم چلائی جائیں جبکہ دائمی مریضوں کی نگرانی اور علاج کے بہتر انتظام کے لیے ایک ڈیجیٹل ہیلتھ رجسٹری بھی قائم کی جائے جس سے کوئٹہ کے ہسپتالوں پر طویل المدتی دباؤ میں کمی آئے گی۔ سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ایک منظم وبا کا علاج عارضی گرانٹس سے نہیں کر سکتے۔ اگر بلوچستان حکومت امراض دل اور ذیابیطس کے لیے الگ بجٹ لائن شامل کرتی ہے تو یہ جدید، ڈیٹا پر مبنی صحت کے نظام کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔ یہ محض خرچ نہیں بلکہ ہزاروں قیمتی جانیں اور مستقبل میں اربوں روپے کے صحت اخراجات بچانے کی سرمایہ کاری ہے۔’سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے زور دیا ہے کہ چونکہ مالی سال 2026–27 کے بجٹ پر مشاورت جاری ہے اس لیے محکمہ صحت اور محکمہ خزانہ کو اس معاملے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ صوبائی دارالحکومت سے باہر رہنے والے افراد کے لیے دل کا دورہ یا ذیابیطس کی تشخیص موت کا سبب نہ بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں