بلڈ پریشر کنٹرول کے طریقے

کراچی ( بیو رو چیف )ہائی بلڈ پریشر یا فشار خون کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب شریانوں سے گزرنے والے خون کا دبا مسلسل بہت زیادہ ہو۔ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل مرض قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے شکار افراد کو اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔خون کی شریانیں تنگ ہو جائیں تو خون کا بہاؤ محدود ہو جاتا ہے۔شریانیں جتنی زیادہ تنگ ہوں گی، بہا ؤاتنا کم اور بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہوگا۔وقت کے ساتھ یہ دباؤ بڑھ کر مختلف طبی مسائل جیسے امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج کا باعث بن سکتا ہے۔بلڈ پریشر کا مسئلہ بہت عام ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔ہائی بلڈ پریشر سے خون کی شریانیں اور اعضا بالخصوص دماغ، دل، آنکھیں اور گردوں کو نقصان پہنچتا ہے۔فشار خون کی تشخیص جلد ہونے سے اس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔بلڈ پریشر کو ادویات اور طرز زندگی میں چند تبدیلیوں سے کنٹرول کرنا ممکن ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت متعدد امراض کا سامنا ہو سکتا ہے۔طرز زندگی میں مثبت تبدیلیوں سے ان عناصر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو فشار خون کا باعث بنتے ہیں، جن میں چند عام طریقے درج ذیل ہیں۔دل کی صحت کے لیے مفید غذا خون کے دبا میں کمی لانے کے لیے بہت اہم ثابت ہوتی ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ ہونے پر اسے کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔پھلوں، سبزیوں، سالم اناج، چکن، مچھلی، انڈے اور گریوں سمیت زیتون کے تیل پر مبنی غذا دل کو صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔جسمانی وزن میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ ورزش کرنے سے بلڈ پریشر کو بھی قدرتی طریقے سے کم کرنا ممکن ہوتا ہے جبکہ دل کی شریانوں کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہر ہفتے 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانا چاہیے یا یوں کہہ لیں کہ ہر ہفتے 5 بار 30 منٹ ورزش کرنی چاہیے۔پوٹاشیم وہ غذائی جز ہے جو جسم میں موجود اضافی نمکیات کو خارج کرنے اور خون کے دبا میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔سبز پتوں والی سبزیوں، ٹماٹر، آلو، شکر قندی، خربوزے، تربوز، کیلے، مالٹے، خوبانی، دودھ، دہی، مچھلی، گریوں اور بیجوں میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔اگر آپ موٹاپے کے شکار ہیں تو صحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں سے وزن میں کمی لانے سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔بہت زیادہ تنا کے شکار افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس کی روک تھام کے لیے یوگا، مراقبہ، گہری سانسیں لینا، مساج اور مسلز کو پرسکون رکھنے سے مدد مل سکتی ہے۔تمباکو نوشی کے عادی افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ عام ہوتا ہے اور ڈاکٹروں کی جانب سے ایسے مریضوں کو تمباکو نوشی چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔تمباکو میں موجود کیمیکلز سے جسمانی ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کی دیواریں سخت ہوتی ہیں۔فشار خون کے مریض یا امراض قلب کے خطرے سے دوچار افراد کو غذا میں نمک کی مقدار کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔نمک کے زیادہ استعمال سے بھی ہائی بلڈ پریشر کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے یا آپ اس کے شکار ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں