بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک )طبی ماہرین اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ خاموش قاتل کہلائے جانے والامرض فشار خون اب بچوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ برطانیہ میں بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر(ہائپرٹینشن)کی شرح گزشتہ 20 سالوں میں دگنی ہوچکی ہے۔اس تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 19 سال سے کم عمر کے بچوں میں یہ شرح 3.2 فیصدسے بڑھ کر 6.2 فیصدتک پہنچ گئی ہے۔جس سے ڈاکٹروں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا ہے کہ یہ مسئلہ اتنی شدت سے کیوں بڑھ رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔طبی ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے مسئلے کی درج ذیل وجوہات بیان کی ہیں،غذائی عادات: بچے زیادہ تر پروسیسڈ فوڈز، نمک والی خوراک اور جنک فوڈ کھاتے ہیں۔موٹاپا: بچوں میں موٹاپے کی شرح میں اضافہ جو ہائی بلڈ پریشر کا بڑا سبب بن رہا ہے۔کم جسمانی سرگرمی: بچے آج کل زیادہ تر وقت اسکرینز(موبائل، ٹیبلٹ، ٹی وی) کے سامنے گزار رہے ہیں جس سے جسمانی سرگرمی کم ہو گئی ہے۔ذہنی دباؤ اور اضطراب: سکول کے دبا ؤاور سوشل میڈیا کی پریشانیوں کے باعث بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی دبا ؤمیں اضافہ ہوا ہے جو بلڈ پریشر کو بڑھا رہا ہے۔بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے انتظام کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کیے ہیں، بچوں کا بلڈ پریشر وقتاً فوقتاً چیک کیا جانا چاہیے خاص طور پر ان بچوں کا جو موٹے ہیں یا جن کے خاندان میں ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ ہو۔بچوں کو زیادہ سے زیادہ پھل، سبزیاں اور مکمل اناج کھانے کی ترغیب دیں جبکہ نمک اور جنک فوڈز سے پرہیز کریں۔بچوں کو روزانہ 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی، جیسے چلنا، دوڑنا یا کھیلنا، کرنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کا سکرین پر گزارا گیا وقت محدود کریں تاکہ وہ زیادہ جسمانی سرگرمیوں میں شامل ہوں۔بچوں کو مناسب اور معیاری نیند دینے پر توجہ دیں کیونکہ نیند کا فقدان بھی بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ذہنی سکون: بچوں کو ذہنی سکون دینے کے لیے یوگا یا مراقبہ جیسے طریقے اپنائیں تاکہ ان کا دماغی دباؤ کم ہو۔اگر ان تدابیر کے باوجود بلڈ پریشر قابو میں نہ آ رہا ہو، تو ڈاکٹر دواں کی مدد سے بھی علاج کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں