بچوں کو صبح سکول کے لیے جگانے کے آسان طریقے

کراچی ( بیو رو چیف )ہروالدین کے لیے صبح کا سب سے مشکل مشن اپنے بچوں کو اسکول کے لیے نیند سے جگا کر بستر سے اٹھانا ہوتا ہے۔ اکثر گھروں میں یہ عمل چیخ و پکار، سزا اور تنا پر ختم ہوتا ہے، جس سے نہ صرف بچے کا پورا دن متاثر ہوتا ہے بلکہ والدین کی ذہنی صحت پر بھی بوجھ پڑتا ہے۔حالیہ تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں کو زبردستی اٹھانے کے بجائے چند نفسیاتی اور طرزِ زندگی کی تبدیلیوں سے اس عمل کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح دیر سے جاگنا محض سستی نہیں ہوتی۔ والدین کو غور کرنا چاہیے کہ کہیں بچہ اسکول میں کسی قسم کے مذاق ، تعلیمی مشکلات یا کسی طبی مسئلے جیسے غذائی کمی یا ڈپریشن کا شکار تو نہیں۔ اگر بچہ مسلسل اسکول جانے سے انکار کرے تو اساتذہ سے رابطہ کر کے اصل وجہ جاننا ضروری ہے۔تحقیق کے مطابق درج ذیل طریقے بچوں کی صبح کو پرسکون اور متحرک بنا سکتے ہیں۔صبح کا آغاز ڈانٹ کے بجائے پیار بھرے الفاظ اور بوسے سے کریں۔ بچے کو احساس دلائیں کہ اس کا جاگنا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے۔جیسے ہی صبح ہو، کمرے کے پردے ہٹا دیں تاکہ سورج کی روشنی براہِ راست بچے پر پڑے۔ انسانی جسم قدرتی طور پر روشنی کے ساتھ بیدار ہونے کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔بچے کے لیے اس کی پسند کا ناشتہ بنائیں۔ جب کچن سے پسندیدہ کھانے کی خوشبو آئے گی تو وہ خود بخود بستر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔اگر گھر میں کوئی پالتو جانور ہے، تو اسے بچے کے کمرے میں بھیجنا اسے جگانے اور خوش کرنے کا ایک تفریحی طریقہ ہو سکتا ہے۔ہلکی موسیقی یا پسندیدہ نظم چلانا بچے کے مزاج کو بہتر بناتا ہے۔اگر بچہ نہ اٹھے تو کمرے کا پنکھا بند کر دینا یا کمبل ہٹا دینا اسے بستر چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔وقت پر اٹھنے والے بچوں کو اسٹیکرز دیں یا ہفتے کے آخر میں کسی خاص تفریح کا وعدہ کریں یا کچھ دیر کے لیے اسے مابائل یا ٹی وی دیکھنے کی اجازت دے دیں۔سونے اور جاگنے کا ایک ہی وقت مقرر کریں، یہاں تک کہ ہفتہ اور اتوار کو بھی اسی معمول پر عمل کریں۔ماہرین کا ایک اہم مشورہ یہ ہے کہ والدین ہر وقت بچوں کو بچانے کی کوشش نہ کریں۔ اگر بچہ بار بار کہنے کے باوجود نہیں اٹھ رہا، تو اسے ایک بار اسکول دیر سے پہنچنے دیں تاکہ اسے اپنی سستی کے نتیجے کا احساس ہو۔ جب اسے ایک بار اسکول دیر سے جانے پر سزا ملے گی تو وہ خود بخود ٹائم پر پہنچے کی جلدی کرے گا۔اسے اضافی گھریلو کام دیں یا اس کے پسندیدہ کھیل کا وقت کم کر دیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔بچوں پر چیخنا یا سزا دینا ناکام ثابت ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور گھر کا ماحول ایسا بنائیں جہاں صبح کا وقت تنا کے بجائے ایک مثبت آغاز کا پیغام دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں