بڑھتی ہوئی بیماریوں کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے جدید ادویات کی تیاری ناگزیر قرار

فیصل آباد (سٹا ف رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیماریوں اور صحت کے بجٹ کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے ویکسین اور ادویات کی تیاری میں جدت لانا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیور سٹی کے شعبہ بائیوکیمسٹری کے زیرِ اہتمام ”مالیکیولر بائیولوجی اور بائیومیڈیکل ریسرچ کے لیے بائیو انفارمیٹکس کے بنیادی ٹولز” کے عنوان سے چوتھی قومی ہینڈز آن ٹریننگ ورکشاپ کی افتتاحی تقر یب سے خطاب کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین کلیہ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عامر جمیل نے کہا کہ طبی تحقیق کا منظرنامہ اب بدل چکا ہے۔ ہم نئی ادویات کی تیاری میں بائیو انفارمیٹکس کی اہمیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ان ٹولز پر مہارت حاصل کر کے ہمارے محققین ادویات کے باہمی اثرات کا انتہائی درستگی کے ساتھ مشاہدہ کر سکتے ہیں تاکہ عوام کے لیے بہترین علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے جدید تحقیق میں پرائمر ڈیزائننگ، کرسپر، کلوننگ اور فائیلوجنیٹک تجزیہ جیسے ٹولز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ چیئرپرسن شعبہ بائیوکیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر انجم ضیاء نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد ہمارے ماہرین کو اینزائم، پروٹین اور ادویات کی ڈیزائننگ کے شعبے میں بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیو انفارمیٹکس وقت کی ضرورت ہے تاکہ اگلی نسل کے اینزائمز، ویکسینز اور علاج کے لیے استعمال ہونے والی پروٹینز تیار کی جا سکیں۔ ہم اپنے سائنسدانوں کو ملک کو درپیش سنگین طبی مسائل کے حیاتیاتی حل تلاش کرنے کی تربیت دے رہے ہیں۔ ورکشاپ کے کنوینر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ یہ ورکشاپ شرکاء کو عملی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ اس ورکشاپ کے شرکاء اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ ڈیجیٹل ڈیٹا کو ٹھوس علاج میں تبدیل کر سکیں اور کمپیوٹیشنل تھیوری اور فارماسیوٹیکل حقیقت کے درمیان موجود خلا کو پُر کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں