19

بھارتی جنگی جنون خطے میں قیام امن کیلئے خطرہ (اداریہ)

جنوبی ایشیا میں قیام امن کیلئے کوششیں ناگزیر ہیں مگر خطے کا ملک بھارت امن کی راہ میں رکاوٹ بنتا چلا آ رہا ہے پاکستان نے ہمیشہ خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کوششیں کیں مگر بھارت ہمیشہ خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کیلئے بضد رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ملکوں کے درمیاں کشیدگی پیدا ہوئی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک متعصب حکمران اور پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے سازشوں پر سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ان کی پالیسیوں نے بھارت کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں قومی سیاست انتہاپسندی اور عسکری جنون ایک دوسرے سے گلے مل چکے ہیں ماضی میں وہی بھارت جس نے دنیا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر متعارف کرایا آج اپنی داخلی سیاست میں نفرت اقلیت دشمنی اور عسکری پروپیگنڈے کا شکار ہے مقبوضہ کشمیر سے لیکر بھارتی پنجاب تک داخلی انتشار کی چنگاریاں بھڑک رہی ہیں ایسے میں مودی حکومت کے لیے سب سے آسان راستہ وہی پرانا ہے بیرونی دشمن تخلیق کرو عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائو اور سرحد پر جنگ کا شور برپا کرو پاکستان جو گزشتہ دو وہائیوں سے دہشت گردی اقتصادی بحران اور سیاسی عدم استحکام سے نبردآزما رہا آج بھی امن کا خواہاں ہے مگر دشمن کی آنکھوں میں یہ خواہش کمزوری سمجھی جا رہی ہے فیلڈ مارشل کا حالیہ خطاب جس میں انہوں نے واضح کیا” پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا” دراصل ایک پیغام تھا نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی اس خطے میں اب فیصلے دھمکیوں سے نہیں کردار سے ہوں گے قوم اب فیصلہ کر چکی ہے کہ اسے بکھرنا نہیں’ جڑنا ہے بھارت نے پاکستان کو ترنوالہ سمجھ رکھا تھا اسی زعم میں اس نے رات کے اندھیرے میں جب جارحیت کی تو اس کے جواب میں افواج پاکستان نے اس کے گھر میں گھس کر اس کا دفاعی نظام درہم برہم کر کے اسے جو نقصان پہنچایا وہ اس کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے معرکہ حق میں پاکستان سرخرو ہوا بھارت عالمی طور پر بدنام اور تنہا ہوا پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی اپنی کامیاب سفارت کاری کا لوہا منوایا جس کا بھارت کو رنج ہے سازشوں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے بعد بھارت کا جنگی جنون بڑھتا جا رہا ہے کبھی وہ افغانستان کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور دہشت گردوں کو فنڈنگ کر کے پاکستان میں انتشار اور افراتفری پید اکرنے کیلئے کوشاں ہے مگر اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان دشمن کیلئے سیسہ پلائی دیوار ہیں ان کو پار کرنا دشمن کے بس سے باہر ہے دوسری طرف عالمی صف بندی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے امریکہ جو طویل عرصے تک جنوبی ایشیا میں بھارت کو ایک توازن کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا اب ایک بار پھر پاکستان کی جانب محتاط مگر گرم جوشی بھرا ہاتھ بڑھا رہا ہے واشنگٹن کے پالیسی ساز سمجھ چکے ہیں کہ چین کے بڑھتے اثرات وسط ایشیا کے راستے’ افغانستان کی غیر یقینی صورت حال میں پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں لہٰذا اب بھارت کو بھی سیدھی طرح جنوبی ایشیا میں قیام امن کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ اچھا موقع ہے اور جنگی جنون پر سے توجہ ہٹا دے مقبوضہ کشمیر کی اصل حیثیت بحال کرے کیونکہ اب دھونس دھاندلی نہیں چلے گی پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں یہ بات بھارت اب اچھی طرح سمجھ چکا ہے’ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اپنی مکارانہ چالیں چلنے سے باز رہے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چھوڑ دے خطے میں امن کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں